پنجاب کے صنعتی شہر گوجرانوالہ میں دل دہلا دینے والا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ولیمے کی پرمسرت تقریب میں شرکت کی غرض سے روانہ ہونے والی نوبیاہتا جوڑے کی کار کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ ہولناک واقعہ سمن آباد چونگی کے قریب گزشتہ شب رونما ہوا جب خوشیوں بھرا ماحول اچانک سوگ میں تبدیل ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتولہ کی شادی محض ایک روز قبل ہی انجام پاتی تھی اور یہ جوڑا اپنے ولیمے کے استقبالیہ کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں نامعلوم اور مسلح ملزمان نے ان کی گاڑی کو زبردستی رکنے پر مجبور کیا اور اس اندوہناک واردات کو انجام دیا۔
پولیس نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد واقعہ کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران پولیس کے ہاتھ ایک اہم سی سی ٹی وی فوٹاج بھی لگ گئی ہے جس نے اس تمام کارروائی کی ہولناکی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سامنے آنے والی اس فوٹاج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دلہا اور دلہن ایک سفید رنگ کی کار کے اندر سوار ہو کر جا رہے تھے۔ اسی دوران ایک ملزم نے بندوق کے زور پر اس چلتی گاڑی کو زبردستی روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
فوٹاج کے مطابق گاڑی رکنے کے بعد حملہ آور نے کار کے پچھلی نشست پر بیٹھی ہوئی ایک دوسری لڑکی کو زبردستی باہر کھینچ لیا۔ اس کے بعد ملزم خود گاڑی کے اندر داخل ہوا اور مبینہ طور پر براہ راست دلہن کو نشانہ بناتے ہوئے گولی چلا دی۔
اس لرزہ خیز فائرنگ کے نتیجے میں نوبیاہتا دلہن شدید زخمی ہو گئی جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں موقع پر ہی دلہن کی موت واقع ہو گئی جس سے دونوں خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے مقتولہ کے والد کی مدعیت میں فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
درج کیے گئے مقدمے میں مقتولہ کی ایک دوست کو بھی نامزد کیا گیا ہے جس سے معاملے کی نوعیت مزید واضح ہوتی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ملزم نامزد لڑکی سے شادی کرنے کا شدید خواہشمند تھا۔
تاہم، لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے اس رشتے کے لیے صاف انکار کر دیا گیا تھا جس کی رنجش اس انتہائی اقدام کی وجہ بنی۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم مبینہ طور پر اسی لڑکی کا قریبی رشتہ دار ہے جس کے رشتے سے انکار کیا گیا تھا۔
واردات کو انجام دینے کے بعد تمام ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف زاویوں سے اس اندوہناک واقعے کی گہرائی سے تفتیش میں مصروف عمل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹاج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے۔ تمام دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیشی دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دلہن کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس المناک واقعے کے بعد سے علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں میں شدید خوف اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔




اپنی رائے دیں