مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 صبح 10:08 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:08
تازہ
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی ایکشن، دشمن کی پوسٹیں تباہمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا کل لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارانگور اڈہ پر بلا اشتعال فائرنگ: پاک فوج کا بھرپور جوابی ایکشنامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہگرین بے پیکیٹرز نے کیرولینا پینتھرز کو 27-19 سے ہرا دیاجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینیفیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکانعظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسینایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازدسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارکراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی
صبح 10:0831 اکتوبر
دنیا

ترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگان

ترک صدر رجب طیب اردگان نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں عمرہ زائرین کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ترکیہ سعودی عرب پر غیر انسانی حملوں کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: طیب اردگان

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے سعودی عرب پر ہونے والے غیر قانونی اور غیر انسانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک مشکل کی اس گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

صدر اردگان نے اپنے ایک بیان میں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں عمرہ زائرین کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک افسوسناک واقعہ قرار دیا۔

ترک صدر نے کہا کہ خطے میں جاری تقسیم، انتشار اور خونریزی صرف ان قوتوں کے مفاد میں ہے جو مسلم دنیا کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، لہذا امت مسلمہ کو ایسے حالات میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت یا غیر قانونی کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے جس کی روک تھام ضروری ہے۔

صدر طیب اردگان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

مکہ معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے بتایا کہ اس معاہدے کی پارلیمانی منظوری کا عمل آئندہ چند روز میں مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ اسے جلد از جلد نافذ العمل کیا جا سکے۔

ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، خاص طور پر سیکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھایا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اردگان کا یہ بیان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ دونوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور سٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے بھی ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین مسلسل رابطے جاری رہتے ہیں تاکہ علاقائی مسائل پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔

ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد عالمی سطح پر بھی اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے، اور مسلم دنیا کے رہنماؤں نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔

ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے چیلنجز درپیش ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے مابین اتحاد ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

صدر اردگان نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کے خلاف اپنا کردار ادا کرے۔

ترکیہ کی پارلیمنٹ میں مکہ معاہدے کی منظوری کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعاون کے نئے دور کا آغاز متوقع ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کی فضا کو تقویت ملے گی۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں