پاکستان میں رواں برس کا مون سون کا موسم گزشتہ سات سال کے دوران دوسرا گرم ترین سیزن ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بتائے جا رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اس سیزن کے دوران درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور بارشوں کے روایتی پیٹرن میں واضح تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا شہر تربت اس سیزن کا سب سے گرم مقام رہا جہاں درجہ حرارت اڑتالیس اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ تربت میں ماہ جولائی کے دوران مختلف تاریخوں میں موسم گرما کے شدید ترین دن ریکارڈ کیے گئے جن میں سات، بارہ اور اکتیس جولائی شامل ہیں۔
اس کے برعکس ملک کے شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان میں موسم کا مختلف روپ دکھائی دیا جہاں مون سون کے اختتام کے قریب سردی کا عنصر بھی محسوس کیا گیا۔ اسکردو میں ستمبر کے آخری ایام میں درجہ حرارت گر کر چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔
بارشوں کے حوالے سے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں مون سون کی بارشیں معمول سے کم ہوئیں تاہم کچھ مقامات پر بادل کھل کر بھی برسے۔ سندھ کے صوبے میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ نمایاں رہی جہاں مقررہ اوسط سے اکاون فیصد کم بارشیں ہوئیں۔
صوبہ بلوچستان میں بھی بارشوں کا تناسب معمول سے چونتیس فیصد کم ریکارڈ کیا گیا جس سے خشک سالی کے اثرات میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں اٹھارہ فیصد، خیبرپختونخوا میں سولہ فیصد اور پنجاب کے خطے میں چار فیصد کم بارشیں ہوئیں۔
اس مجموعی کمی کے برعکس گلگت بلتستان میں صورتحال مختلف رہی جہاں مون سون کے دوران بارشیں معمول سے پانچ فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ تغیرات گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست اثرات کا نتیجہ ہیں۔
محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیزن کے دوران بعض مقامات پر انتہائی شدید نوعیت کی بارشیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ لاہور کے ائیرپورٹ پر تئیس جولائی کو ایک ہی روز کے اندر دو سو باون ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری ہونے والی اس سالانہ مون سون سمری میں ملک بھر کے موسمی اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے اس غیر متوازن نظام کی وجہ سے زرعی شعبے اور زیر زمین پانی کی سطح پر بھی اچھے اور برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
دوسری طرف بلوچستان کے علاقوں میں بھی بارشوں کا کم ہونا اور درجہ حرارت کا اڑتالیس ڈگری سے تجاوز کرنا خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی سنگین عکاسی کرتا ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے عوام کو شدید گرمی کی لہر اور پانی کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان میں بارشوں کا تناسب زیادہ ہونا اور اسکردو جیسے مقامات پر پارہ گرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے مختلف خطوں میں موسمی تغیرات کے اثرات یکساں نہیں ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین ان تمام موسمیاتی عوامل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ بروقت پیشگوئی کی جا سکے۔



اپنی رائے دیں