مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، چار پولیو ورکرز اغواپاک چین تعلقات کے استحکام کا اعادہ، چینی وزیر کا دورہ اسلام آبادمالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہشمالی کوریا نے بائنس ہیکنگ میں ملوث ہونے کا امریکی الزام مسترد کر دیاایڈرین ہیملٹن مانس نے پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیںساؤتھ ایشین فٹ بال چیمپئن شپ: پاکستانی کوچ نے سیمی فائنل تک رسائی کا ہدف مقرر کر لیاامریکہ نے روانڈا اور ساؤتھ افریقہ کو ایگوآ سے نکالنے کا اعلان کیاایپل اور گوگل ایپ اسٹورز پر جنسی و پُرتشدد ڈیپ فیک اے آئی ایپس کا انکشافمظفرگڑھ: وراثتی زمین کے تنازع پر بھائی نے حاملہ بہن کو قتل کردیاپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں نئے عہدے داروں کا انتخابلاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکمفِیفا نے زوریخ میں کونسل اراکین کو ورلڈ کپ سیل‑آف دستاویزات تک محدود رسائی دیامریکی عدالت نے ایف بی آئی کے سابق اعلیٰ حکام کے خلاف کیس خارج کر دیامشرق وسطیٰ کی صورتحال، پاکستان میں آرامکو کے پیٹرول پمپس پر فروخت معطللاہور کے چلڈرن اسپتال میں چوہوں کی ویڈیو وائرل، انتظامیہ کا وضاحتی موقف سامنے آ گیاسانحہ پمز کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقررصادق محمد نے بابر اعظم کی بیٹنگ میں خامیوں کی نشاندہی کر دییوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاریاسکردو: میاں، بیوی اور دو بچوں کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتارلاہور: نوکری کا جھانسہ دے کر شادی شدہ خاتون سے زیادتی، ایک ملزم گرفتار
موسم

لاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس پریشر میں کمی اور بحران کا آغاز

سوئی ناردرن کے سسٹم میں گیس کی قلت کے باعث مختلف علاقوں میں پریشر کم ہو گیا ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

لاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس پریشر میں کمی اور بحران کا آغاز

موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی ملک کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور میں گیس کا بحران سر اٹھانے لگا ہے جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سردیوں کے موسم کی باقاعدہ آمد سے قبل ہی گیس کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے سسٹم میں گیس کی قلت واضح طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گیس کا پریشر انتہائی نچلی سطح پر آ گیا ہے جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں کے دوران گیس کی مسلسل فراہمی اب ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ کے امور بالخصوص کھانا تیار کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے گیس کی فراہمی کے لیے ایک مخصوص شیڈول نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت دن کے مختلف اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس شیڈول کے مطابق صبح کے ناشتے کے اوقات میں تین گھنٹے جبکہ دوپہر کے وقت دو گھنٹے کے لیے گیس فراہم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح رات کے اوقات میں بھی گیس کی فراہمی کے لیے تین گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاکہ تمام صارفین کو بنیادی ضروریات کے لیے کسی حد تک گیس میسر آ سکے۔ تاہم اس مقررہ شیڈول پر بھی مکمل عملدرآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور کئی علاقوں میں مقررہ اوقات میں بھی گیس غائب رہتی ہے۔

ناشتہ اور کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی عدم فراہمی یا انتہائی کم پریشر کی وجہ سے گھروں میں خواتین کو کھانا بنانے میں سخت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کے باعث چولہے جلانا اور پانی گرم کرنا محال ہو چکا ہے جس سے بالخصوص دفاتر جانے والے افراد اور بچوں کے لیے ناشتے کی تیاری متاثر ہو رہی ہے۔

گیس بحران کی اس سنگین صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومتی سطح پر بھی اقدامات زیر غور ہیں اور اس بحران کو ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور قلت پر قابو پانے کے لیے درجنوں ایل این جی کارگو بھی بک کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ درآمدی ایل این جی کے نئے کارگو بروقت پہنچنے سے گیس کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور سسٹم کا دباؤ کم ہوگا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران گیس کی طلب میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے اس سے پہلے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

سوئی ناردرن کے حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی پیداوار میں کمی اور درآمدی گیس کی دستیابی کے چیلنجز کی وجہ سے یہ عارضی قلت پیدا ہوئی ہے۔ صارفین کی طرف سے مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد فیلڈ ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ پریشر کے مسائل کو حتی الامکان حل کیا جا سکے۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اوقات کار میں بہتری لائی جائے تاکہ سردی کی شدت بڑھنے سے قبل عوام کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے یہ حال ہے تو سخت سردیوں کے ایام میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

حکومت اور متعلقہ توانائی کے اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گیس چوری اور ضیاع کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ سسٹم میں موجود گیس کا درست استعمال ہو سکے۔ گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس قیمتی توانائی کا استعمال انتہائی کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔

موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ایل این جی کی درآمد کے علاوہ مقامی سطح پر گیس کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان کی جلد پیداوار شروع کرنے کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات ہی ملک کو اس طرح کے توانائی کے بحرانوں سے مستقل طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

شہر میں بڑھتی ہوئی اس گیس قلت اور کم پریشر کے باعث عامتہ الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری بنیادوں پر ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کریں تاکہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

موسم کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں