مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:37
بریکنگ
گوادر میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خاتون سمیت 10 دہشتگرد ہلاکگوادر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب کلیئرنس آپریشن، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکگوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقدہشت گرد جہاں بھی ہوں گے، سخت جواب ملے گا: فیلڈ مارشل سید عاصم منیربھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیرراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہبینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشافپورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد، دو جہاز لنگراندازکومل عزیز خان کا شوبز انڈسٹری کو مستقل خیرباد کہنے کا اعلانانٹرنیٹ پر خوشبوئیں شیئر کرنے کی جدید سینٹرونک ٹیکنالوجی تیار
سائنس و ٹیکنالوجی

انٹرنیٹ پر خوشبوئیں شیئر کرنے کی جدید سینٹرونک ٹیکنالوجی تیار

محققین نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس سے انٹرنیٹ کے ذریعے دور بیٹھے افراد کو خوشبوؤں کا احساس دلایا جا سکے گا۔

انٹرنیٹ پر خوشبوئیں شیئر کرنے کی جدید سینٹرونک ٹیکنالوجی تیار

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور حیرت انگیز اور انقلابی کارنامہ سامنے آیا ہے جس کے تحت ماہرین نے ایسی جدید ٹیکنالوجی وضع کر لی ہے جو انٹرنیٹ پر خوشبوؤں کو ڈیجیٹل انداز میں شیئر کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

اس نئی اور منفرد ایجاد کا بنیادی اور اہم ترین مقصد دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے افراد کے درمیان باہمی مواصلات اور ڈیجیٹل تجربات کو مزید حقیقی، دلچسپ اور جاندار بنانا ہے۔ اب تک انٹرنیٹ پر صرف تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کا تبادلہ ہی ممکن تھا لیکن خوشبو کا احساس دلانے والی اس ٹیکنالوجی نے ڈیجیٹل دنیا میں ایک بالکل نیا باب کھول دیا ہے۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں میٹریلز سائنس اینڈ انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ محققین نے اس جدید نظام کو کامیابی کے ساتھ وضع کیا ہے جس میں الیکٹرانک ناک کا حیرت انگیز استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جدید الیکٹرانک ناک مختلف قسم کی خوشبوؤں کو نہایت باریک بینی اور مہارت کے ساتھ پہچاننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے سگنلز کو آگے منتقل کرتی ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور ڈاکٹریٹ کے ہونہار طالب علم چُن یو یانگ کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی ایک مقام پر موجود خوشبو کو سونگھنے اور دوسری جگہ پر ہو بہو ویسی ہی مہک پیدا کرنے کے سائنسی عمل کو آپس میں مضبوطی سے مربوط کرتی ہے۔ اس سائنسی نظام کا نام سینٹرونک رکھا گیا ہے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے اور ماہرین کو قوی امید ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سینٹرونک جیسی منفرد ٹیکنالوجی کے آنے سے مستقبل کے مواصلاتی آلات اور ڈیجیٹل آلات کی نوعیت یکسر بدل جائے گی اور صارفین کو بالکل نیا تجربہ حاصل ہوگا۔ جب یہ سینٹرونک ٹیکنالوجی کسی بھی مخصوص مہک کو کامیابی کے ساتھ شناخت کر لیتی ہے تو یہ فوری طور پر ایک خاص نظام کو فعال بناتی ہے۔

اس سسٹم کے تحت انسانی جسم پر پہنے جانے والے ایک ریموٹ آلے کو فوری طور پر ضروری ہدایات ارسال کی جاتی ہیں تاکہ وہ بروقت اپنا کام شروع کر سکے۔ اس خصوصی ریموٹ ڈیوائس کا بنیادی کام مخصوص خوشبو دار سالمات کو فضا میں خارج کرنا ہوتا ہے تاکہ بالکل اصل خوشبو جیسی مہک محسوس کی جا سکے۔

چُن یو یانگ نے اپنے ایک اہم بیان میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اس تمام سائنسی کاوش کا اصل مقصد آن لائن رابطوں کو محض دیکھنے اور سننے کی حد تک محدود نہیں رکھنا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں سونگھنے کا حسی تجربہ بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ رابطے زیادہ مؤثر بن سکیں۔

محققین کے مطابق اس سے قبل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صرف بصری اور صوتی مواد ہی باقاعدگی سے شیئر کیا جاتا تھا لیکن اب خوشبو کے اس دلچسپ اضافے سے دور بیٹھے اپنوں کے ساتھ میل جول کا احساس مزید گہرا ہو جائے گا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی آنے والے وقت میں ورچوئل رئیلٹی اور آن لائن شاپنگ سمیت مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ اس جدید نظام کے ذریعے صارفین کسی بھی پروڈکٹ کو آن لائن خریدتے وقت اس کی اصل خوشبو کا اندازہ بھی گھر بیٹھے باآسانی لگا سکیں گے۔ اس ایجاد سے صارفین کو آن لائن خریداری کے دوران بھی ایک حقیقی تجربہ حاصل ہوگا جو پہلے ممکن نہیں تھا۔

اس کے علاوہ طویل فاصلے پر موجود اپنے پیاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران ان کے قریب ہونے کا خوشگوار احساس دلانے میں بھی یہ ایجاد ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ سائنسی حلقوں میں اس نئی اور منفرد تحقیق کو انتہائی تحسین اور ستائش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے سراہا جا رہا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کو مزید نکھار کر اور بہتر بنا کر عام صارفین کے لیے قابل استعمال بنایا جائے گا تاکہ روزمرہ زندگی میں اس سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ محققین کی جانب سے اس شعبے میں مزید کام جاری ہے تاکہ اس کے نتائج کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اس تمام تحقیق کا بنیادی محور انسانی تجربات کو ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ سے زیادہ حقیقی بنانا ہے تاکہ فاصلے کم سے کم محسوس ہوں۔ انٹرنیٹ کی تاریخ میں خوشبو کی منتقلی کا یہ پہلا بڑا اور باقاعدہ سائنسی قدم ہے جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

امریکہ کی معروف اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی یہ کاوش آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل مواصلات کی دنیا کا نقشہ بدلنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور اس پر مزید کام تیزی سے جاری ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں