بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی کو اپنی شخصیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے فوری ریلیف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں فلم ’دوسرا‘ کی ریلیز کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ فلم آج جمعہ 23 اکتوبر 2026 کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ سارو گنگولی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ فلم سازوں نے ان کی اجازت کے بغیر ان کی شخصیت اور کرکٹ کے مشہور لمحات کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔
سابق کپتان کے اعتراضات میں خاص طور پر 2002 کی نیٹ ویسٹ سیریز کے فائنل کے بعد لارڈز کی بالکونی میں ان کا شرٹ اتار کر لہرانے والا مشہور واقعہ شامل ہے۔ گنگولی اور ان کے قانونی مشیروں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مناظر سے شائقین کو یہ غلط تاثر مل سکتا ہے کہ وہ اس فلم کا حصہ ہیں۔
فلم سازوں اور پروڈکشن ہاؤس ’لوو فلمز ایل ایل پی‘ نے عدالت میں اپنے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ یہ فلم کسی بھی صورت میں سارو گنگولی کی سوانح عمری نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہانی راجستھان سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے۔
فلم کے ہدایت کار ابھینے دیو ہیں جبکہ مرکزی کردار پلابیتا بورتھاکر نبھا رہی ہیں۔ فلم سازوں کے مطابق کہانی کا مرکزی خیال ایک ایسی لڑکی کے گرد بننا گیا ہے جو سارو گنگولی کے کرکٹ کیریئر سے متاثر ہو کر سماجی اور روایتی پابندیوں کو چیلنج کرنے کا حوصلہ پاتی ہے۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فلم کی ریلیز پر فوری حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی اور سماعت کا عمل آج 23 اکتوبر کو ہی جاری رہے گا، جس میں عدالت مزید تفصیلات کا جائزہ لے گی۔
سارو گنگولی بھارتی کرکٹ کی تاریخ کے ایک اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے کئی اہم فتوحات حاصل کیں، جس کی وجہ سے ان کی شخصیت اور ان کے کیریئر کے لمحات کو اکثر فلمی اور دستاویزی کہانیوں میں حوالہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
فلم ’دوسرا‘ کے حوالے سے پیدا ہونے والا یہ تنازعہ مشہور شخصیات کے حقوقِ شہرت اور تخلیقی آزادی کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مستقبل میں ایسی فلموں کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔
فلم کے ٹریلر اور تشہیری مہم کے دوران سارو گنگولی کے کرکٹ کے مناظر دکھائے جانے پر ہی یہ تنازعہ شروع ہوا تھا۔ گنگولی کی ٹیم کا ماننا تھا کہ یہ عمل ان کی شناخت کے غیر مجاز استعمال کے زمرے میں آتا ہے، جس سے ان کے ذاتی وقار پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب فلمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی عوامی شخصیت کے کیریئر سے متاثر ہو کر کہانی بنانا ایک تخلیقی عمل ہے اور اسے سوانح عمری کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے۔ فلم سازوں کا اصرار ہے کہ ان کی فلم کا مقصد کسی کی شخصیت کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔
اب جبکہ دہلی ہائی کورٹ نے ریلیز پر پابندی نہیں لگائی ہے، فلم اپنے شیڈول کے مطابق آج سینما گھروں کی زینت بنے گی۔ شائقین اور کرکٹ کے مداحوں میں اس فلم کو لے کر کافی تجسس پایا جا رہا ہے، خاص طور پر ان مناظر کے حوالے سے جو تنازعہ کا باعث بنے۔
عدالت کی جانب سے کیس کی مزید سماعت آج متوقع ہے، جس میں ممکنہ طور پر فلم کے مواد اور گنگولی کے حقوق کے حوالے سے مزید وضاحتیں سامنے آئیں گی۔ تب تک فلم کی نمائش کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا اور شائقین اسے دیکھ سکیں گے۔
سارو گنگولی کے مداحوں کی نظریں اب اس قانونی جنگ کے اگلے مرحلے پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت اس معاملے میں حتمی فیصلہ کیا سناتی ہے اور کیا فلم کے مواد میں کوئی تبدیلی کرنے کا حکم دیا جاتا ہے یا نہیں۔





اپنی رائے دیں