مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026 22 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: صدر میں مسافر بس کی ٹکر سے سڑک کنارے کھڑا شہری جاں بحقپاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیااپ ڈیٹ: مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے امریکی تنصیبات کو اربوں ڈالر کا نقصانڈریپ کا جعلی فلو ویکسین کی فروخت پر ملک گیر الرٹ جاریکراچی کو جیل قرار دینے پر حنا پرویز بٹ کی حنا الطاف کو لاہور آنے کی دعوتسعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپیبائنانس کا ہیکنگ کے بعد رقوم کی واپسی کا عمل شروع، 95 فیصد اثاثے بحالالاسکا سینیٹ انتخاب: امیدواروں کے ناموں میں مماثلت پر تنازعہ شدت اختیار کر گیاپاکستان آرمی ڈرون ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان کرکٹ بورڈ: سینٹرل کنٹریکٹس میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہحکومتی پالیسیوں سے کاٹن اسٹیک ہولڈرز میں مایوسی بڑھ گئی، کاٹن جنرز فورممنڈی بہاؤالدین: انسانی اسمگلنگ میں 16 سال سے مطلوب اشتہاری ملزم گرفتاربیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے جانے والے طلبہ بینک اکاؤنٹ کیسے کھولیں؟بھارتی گلوکار ہمیش ریشمیا کا بین الاقوامی البم کے لیے 15 انگریزی گانے تیار کرنے کا انکشافغزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے، پولیس اہلکاروں سمیت 8 فلسطینی شہیدپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنجلاہور سمیت پنجاب بھر میں موسم سرد ہونے لگا، درجہ حرارت میں کمیلاہور ایئرپورٹ: نیدرلینڈز کے جعلی ویزوں پر بیرون ملک جانے والے دو مسافر گرفتارپاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگیانقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر آئیکت کشمیر کے سپرد
سیاست

فرانس، بھارت اور پاکستان میں عوامی مظاہرے، جمہوریت اور شہری حقوق پر بحث چھڑ گئی

مختلف ممالک میں تعلیمی مسائل، انتخابی فہرستوں میں ترمیمی عمل اور سیاسی مطالبات پر جاری احتجاج نے ریاست اور شہریوں کے تعلق پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

فرانس، بھارت اور پاکستان میں عوامی مظاہرے، جمہوریت اور شہری حقوق پر بحث چھڑ گئی

دنیا کے مختلف ممالک میں بنیادی حقوق، تعلیمی اصلاحات اور انتخابی شفافیت کے لیے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے باعث ریاستی ترجیحات اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر عالمی سطح پر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔

فرانس میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہائی اسکول کے طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور کلاس رومز میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

فرانس میں جاری طلبہ کے اس احتجاج نے چھ اکتوبر کو اس وقت شدید پرتشدد نوعیت اختیار کر لی جب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈ کا نشانہ بن کر ایک پندرہ سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہو گیا۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈز کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ طلبہ کے مطالبات اور خدشات کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

فرانس میں طلبہ کے اس احتجاج نے تعلیمی نظام میں موجود طبقاتی عدم مساوات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف بہترین سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے موجود ہیں تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں اور اساتذہ کے انتظار میں بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

دوسری جانب بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور مختلف شہری گروہوں کا احتجاج جاری ہے، جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی اور شدید کشمکش کو جنم دیا ہے۔

بھارتی اپوزیشن اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے اس عمل کو روکا جائے، تاکہ مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کیے گئے اہل ووٹرز کے نام دوبارہ بحال ہو سکیں۔

اس احتجاجی تحریک کے دوران سات اکتوبر کو بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اہم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

بھارت کے الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹوں کو درست اور شفاف بنانا ہے، اور تمام اہل شہریوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کے باوجود جمہوری حلقوں کی جانب سے انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ہر جمہوری نظام میں ووٹرز کے اعتماد کی بحالی ہی انتخابات کی شفافیت کی اصل ضامن ہوتی ہے۔

پاکستان میں بھی اس وقت سیاسی احتجاجی ماحول قائم ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اپنا سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کو کسی بھی سیاسی دباؤ کے ذریعے یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پرامن سیاسی احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔

سیاسی اور قانون دان ماہرین کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں حکومت کو احتجاج سے اختلاف کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام بھی ضروری ہے، بشرطیکہ قانون شکنی اور عمومی املاک کی توڑ پھوڑ نہ کی جائے۔

ماہرین کے مطابق ایک طاقتور اور جدید جمہوری ریاست کا وقار صرف بلند و بالا عمارتوں اور پولیس فورس کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل حسن اس کے اسکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی میں نظر آتا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں