ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ملک بھر میں فلو سے بچاؤ کی جعلی ویکسین کی موجودگی کے حوالے سے ایک ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ یا مشکوک ویکسین کے استعمال سے مکمل گریز کریں۔
ڈریپ کے مطابق یہ جعلی ویکسین مختلف ناموں سے مارکیٹ میں سپلائی کی جا رہی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ویکسینز کی تیاری اور تقسیم میں طبی معیارات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اتھارٹی نے تمام میڈیکل اسٹورز اور فارمیسی مالکان کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ اور منظور شدہ کمپنیوں کی ویکسین ہی فروخت کریں۔ ڈریپ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انسدادِ ادویات قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈریپ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ویکسین خریدتے وقت اس کی پیکنگ، ایکسپائری ڈیٹ اور ڈریپ کی رجسٹریشن نمبر کو لازمی چیک کریں۔ کسی بھی مشکوک دوا یا ویکسین کی نشاندہی ہونے پر فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی ادویات کے اس نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے ملک گیر سطح پر نگرانی کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام صوبائی ضلعی انتظامیہ کو بھی الرٹ رہنے اور فارمیسیوں کی اچانک چیکنگ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جعلی ویکسین کی تیاری اور ترسیل میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام صرف مستند ڈاکٹروں کے مشورے اور معروف فارمیسیوں سے ہی ویکسین حاصل کریں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق فلو ویکسین کا غیر معیاری یا جعلی ہونا انسانی جسم میں پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ غیر معیاری ویکسین کے استعمال سے نہ صرف بیماری کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہوتی بلکہ جسم میں دیگر طبی مسائل بھی پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ڈریپ کے افسران کا کہنا ہے کہ جعلی ویکسین کی شناخت کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو مارکیٹ میں موجود اسٹاک کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ ان ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر درآمد شدہ یا بغیر رجسٹریشن کے فروخت ہونے والی ویکسین کو فوری طور پر قبضے میں لیں۔
اتھارٹی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی ویکسین کی پیکنگ پر شک ہو یا اس کی کوالٹی مشکوک معلوم ہو تو اسے ہرگز استعمال نہ کریں۔ ایسی صورتحال میں فوری طور پر ڈریپ کے ہیلپ لائن یا قریبی ضلعی ہیلتھ آفس سے رابطہ کیا جائے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ادویات کی کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے ڈریپ کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں۔ اس الرٹ کا مقصد ملک میں جعلی ادویات کی روک تھام اور عوام کی صحت کے تحفظ کو ہر ممکن حد تک یقینی بنانا ہے۔
ادویات کی فراہمی کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ڈریپ مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جعلی ویکسین کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی تعاون لیا جا رہا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا غیر تصدیق شدہ ذرائع سے ملنے والی ویکسین کی تشہیر پر توجہ نہ دیں۔ صرف مستند میڈیکل مراکز اور ہسپتالوں سے حاصل کردہ ویکسین ہی محفوظ اور کارآمد ہوتی ہے۔
ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ جعلی ویکسین کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کے لائسنس بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے تمام صوبائی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس کو بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئندہ چند دنوں میں مارکیٹ میں موجود تمام ویکسین کے اسٹاکس کی دوبارہ جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ڈریپ نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ جعلی ادویات کے اس کاروبار کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔



اپنی رائے دیں