مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
پاکستان نے عمان کو شکست دے کر ہانگ کانگ سکسز پلیٹ ٹائٹل جیت لیاغزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے، پولیس اہلکاروں سمیت 8 فلسطینی شہیدپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنجلاہور سمیت پنجاب بھر میں موسم سرد ہونے لگا، درجہ حرارت میں کمیلاہور ایئرپورٹ: نیدرلینڈز کے جعلی ویزوں پر بیرون ملک جانے والے دو مسافر گرفتارپاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگیانقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر آئیکت کشمیر کے سپردہاردک پانڈیا نے مسٹر بیسٹ کا بیس بال چیلنج جیت کر ایک لاکھ ڈالر انعام حاصل کر لیاخیبر پختونخوا: مخدوش اسکول عمارتوں سے طلبہ کی فوری منتقلی کا حکمپین پیسیفک اوپن: ڈیانا شنائیڈر نے لیلیٰ فرنینڈس کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیاملک بھر میں جعلی فلو ویکسین کی سپلائی کا انکشاف، ڈریپ کا الرٹ جاریکراچی: ڈیفنس بخاری کمرشل میں شہریوں کے دو گروپوں میں لڑائی کی ویڈیو وائرلامریکا کا ایران میں مزید ایک دو اہداف کو نشانہ بنانے کا عندیہبحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیزایران کی جانب سے امریکا کو کسی بھی ممکنہ جنگ کے طویل دورانیے کی تنبیہ28 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تاحال موصول نہیں ہوا، سعید غنیبنڈس لی گا: بائرن میونخ اور بوروسیا ڈورٹمنڈ کا میچ 2-2 سے برابرفرح خان نے ایشوریہ رائے کو بالی وڈ کی واحد قدرتی خوبصورت اداکارہ قرار دے دیابرطانیہ کے شہر کوونٹری میں والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے محفلِ قرآن خوانیبیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ہدایات جاری
سیاست

بجلی صارفین کیلئے خوشخبری، 200 سے زائد یونٹس پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاری

وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا ہے کہ 200 سے ایک یونٹ بڑھنے پر چھ ماہ کے اضافی چارجز کا معاملہ ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

بجلی صارفین کیلئے خوشخبری، 200 سے زائد یونٹس پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاری

وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے صارفین کو بڑا ریلیف فراہم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سو یونٹس سے صرف ایک یونٹ بھی بڑھ جانے کی صورت میں صارفین کو جو چھ ماہ تک اضافی چارجز برداشت کرنا پڑتے ہیں، اس نظام کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ٹیرف کے باعث عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کے حوالے سے توجہ دلائو نوٹس پر بحث کی گئی۔ اس موقع پر سینیٹر عابد شیر علی نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر کسی صارف کے بجلی کے استعمال کے یونٹس دو سو سے بڑھ کر دو سو ایک ہو جائیں تو اس کا پورا ٹیرف اور سلیب تبدیل ہوجاتا ہے، جو غریب طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

عابد شیر علی نے اپنی گفتگو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معمولی سا فرق آنے پر صارف پر شدید مالی دباؤ آ جاتا ہے اور وہ دو سو ایک یونٹ استعمال کرنے کے باوجود چار سو یونٹس کے سلیب کا بھاری بھرکم بل ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نظام کی وجہ سے عام آدمی کو طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مذکورہ بالا توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سینیٹ کو بتایا کہ وزارت اس مسئلے کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس امر پر کام کر رہے ہیں کہ دو سو سے ایک یونٹ زائد ہونے کی صورت میں لگنے والے چھ ماہ کے اضافی چارجز کے اس اصول کو ہی ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے مزید اشارہ دیا کہ اس ضمن میں دو سو یونٹس کی حد کو بڑھا کر دو سو پچاس یونٹس تک لے جانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں ایسے صارفین کی تعداد جن کے بجلی کے ماہانہ یونٹس دو سو سے کم ہیں، اب بڑھ کر دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اس تمام آبادی کو یکساں طور پر براہ راست سبسڈی یا ڈسکاؤنٹ دینا مناسب حکمت عملی نہیں ہوگی کیونکہ اس میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو سولر پینل کا استعمال کرتے ہیں اور شمسی توانائی کی وجہ سے ان کے بلوں میں یونٹس کم آتے ہیں۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ اس طرح کے فوائد صرف اور صرف ان صارفین تک پہنچائے جائیں جو حقیقی معنوں میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت کا مقصد بجلی کے موجودہ نرخوں کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا اور پسے ہوئے طبقے کو زیادہ سے زیادہ مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب وزارت توانائی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بلنگ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے پہلے ہی کئی سخت اصلاحاتی اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں۔ چند روز قبل بھی وفاقی وزیر نے ڈسکوز کے بورڈز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صارفین کو کسی بھی قسم کے غلط اور من مانے ڈیٹیکشن بلز جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

حکومتی فیصلوں کے مطابق فیلڈ عملے اور ایس ڈی اوز کی جانب سے دستی یا مینوئل ڈیٹیکشن بلز جاری کرنے کا عمل اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور اسے سنگین مس کنڈکٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کو شفاف بنانے اور انسانی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے ایک مرکزی آن لائن پورٹل تیار کیا گیا ہے اور اب تمام ڈسکوز کے لیے لازمی ہے کہ وہ ڈیٹیکشن بلنگ صرف اسی ڈیجیٹل نظام کے تحت کریں۔

وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی صارف کا میٹر خراب یا جل جاتا ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکلز یعنی دو ماہ کے اندر تبدیل کرنا لازمی ہوگا۔ خراب میٹر کی صورت میں اوسط بلنگ کا تخمینہ بھی صرف دو ماہ تک ہی محدود رکھا جائے گا تاکہ صارفین بلاوجہ پریشانی سے محفوظ رہیں۔

مزید برآں غیر قانونی استعمال پر عام صارفین کے لیے ڈیٹیکشن بل کا دورانیہ تین ماہ جبکہ رجسٹرڈ صارفین کے لیے اس کی زیادہ سے زیادہ حد چھ ماہ مقرر کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کنزیومر سروس مینوئل میں مزید ترامیم کی تجاویز بھی جلد پیش کی جائیں گی تاکہ بجلی کے شعبے کو مکمل طور پر صارف دوست بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ ڈسکوز کے بورڈز اور متعلقہ کمیٹیاں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ڈیٹیکشن بلوں کی درستگی کا جائزہ لیا کریں گی تاکہ کسی بھی سطح پر غفلت یا زیادتی کا تدارک کیا جا سکے۔ حکومت کا عزم ہے کہ بجلی کے شعبے سے جڑے جملہ مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور صارفین کے معاشی استحصال کا راستہ روکا جائے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بجلی چوری کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھی جائیں گی کیونکہ اس کے بغیر نظام کی درستگی ممکن نہیں۔ تاہم چوری کی روک تھام کے نام پر ایماندار اور غریب صارفین پر ناجائز بوجھ ڈالنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔

مجموعی طور پر ان تمام اصلاحات اور تجاویز کا بنیادی مقصد بجلی کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ عوام پر ٹیرف کا بوجھ کم ہو سکے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس نوعیت کے عوامی فلاحی امور پر ہونے والی بحث سے پالیسی سازی میں مزید بہتری لانے میں مدد مل رہی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں