شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں غربت اور معاشی تنگی سے تنگ آ کر ایک ماں نے اپنے ہی بچوں پر گولی چلا دی۔ اس دلخراش واقعے میں سات سالہ احسن موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ چھ سالہ طیبہ شدید زخمی ہے۔
مقامی پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق گھنگ روڈ کی بستی گلی نمبر ایک میں رہائش پذیر ایک محنت کش ڈرائیور عمران کا گھر اس وقت مقتل گاہ بن گیا جب ان کی اہلیہ شازیہ نے انتہائی قدم اٹھایا۔ بچوں کی جانب سے پھل خریدنے کی ضد پر ماں نے دلبرداشتہ ہو کر یہ اقدام کیا۔
واقعے کے بعد زخمی بچی طیبہ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ شازیہ نے بھی بچوں پر فائرنگ کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ عمران کا خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور گھر میں اکثر غربت کے باعث تناؤ رہتا تھا۔ شازیہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار تھی جس کی وجہ سے وہ گھریلو اخراجات پورے نہ ہونے پر پریشان رہتی تھی۔
واقعے کے روز جب بچوں نے ماں سے پھل خریدنے کی فرمائش کی تو شازیہ کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس تلخ حقیقت نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔
پاکستان میں غذائیت کی کمی اور غربت کے مسائل پر ماہرین نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غذائیت کی کمی ریاست کے لیے سیکیورٹی تھریٹ بن چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی نشوونما کے مسائل کا شکار ہیں۔ غذائیت کی کمی سے متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد سکول جانے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتی ہے، جس سے انسانی وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
یونیسف اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی ضروریات تک رسائی کا فقدان عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا رہا ہے۔ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کا نہ ملنا معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
اس واقعے نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور معاشی عدم مساوات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے غریب طبقے کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں اور انہیں تحفظ ملے۔
شیخوپورہ کا یہ سانحہ محض ایک خاندانی المیہ نہیں بلکہ یہ ان تلخ حقائق کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا آج بہت سے خاندان کر رہے ہیں۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے ہونے والی یہ اموات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔
پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ زخمی بچی طیبہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کے لیے ریلیف کے اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی اور ماں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہو۔

اپنی رائے دیں