پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جامع اور منطقی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے سیکیورٹی اداروں کو نئے چیلنجز کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔
عمران کشور نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سوال اٹھانے کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جس سے زندگی کے ہر شعبے میں خود احتسابی کا عمل مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق، جب تک تھانے کے ماحول میں بہتری نہیں لائی جاتی، پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانا ایک مشکل ہدف رہے گا۔
ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ عام آدمی کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے محکمے میں نظم و ضبط اور انتظامی امور کی اہمیت مسلمہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی ادارے کی فعالیت ممکن نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پولیس کے وقار کو بلند کرنے کے لیے میرٹ پر کام کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔
عمران کشور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں اور اپنے اردگرد منشیات فروشوں یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
ملاقات کے دوران ڈی آئی جی ایڈمن نے پولیس ملازمین کے مسائل کو براہ راست سنا اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی خدمت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
پولیس کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمے میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو اصولوں پر کاربند رہتے ہیں اور میرٹ کو مقدم رکھتے ہیں۔ ایسے افسران محکمہ پولیس کی شان ہیں اور ان کی تعیناتی سے ادارے کا وقار بڑھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تھانے کا ماحول ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو عوام کے ذہنوں میں پولیس کا تاثر قائم کرتا ہے۔ اگر تھانے کی سطح پر بہتری لائی جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔
عمران کشور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہونا چاہیے تاکہ ایک ایماندار افسر بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا اصل ہدف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہے۔
ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ دہشت گردی اور دیگر جدید جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس کو اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال تفتیش کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے اور ان کی شکایات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔
عمران کشور نے کہا کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو ہمیشہ یہی ہدایت کرتے ہیں کہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں بہتری کے لیے وہ پرعزم ہیں اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا ہر فرد معاشرے کے امن کے لیے ایک اہم ستون ہے۔

اپنی رائے دیں