کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی طویل بندش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے متعدد گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا دورانیہ انتہائی کم ہو گیا ہے۔ کئی مقامات پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی پریشان ہے۔
بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں لائنز ایریا، نیو کراچی، موسیٰ کالونی اور لیاری شامل ہیں۔ ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث پانی کی فراہمی اور دیگر گھریلو کاموں میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔
ملیر، لانڈھی اور کورنگی کے رہائشیوں نے بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی شکایات کی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی پڑھائی اور بزرگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن اور قائد آباد کے مکین بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی کی بار بار بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی اور ہاکس بے کے مختلف حصوں میں بھی بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ ان علاقوں کے مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے صورتحال پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے یا جہاں صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی جاتی۔
ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کا نظام ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہے جہاں نقصانات کی شرح زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی مکمل وصولی ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا واحد حل ہے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک انتظامیہ اس مسئلے کا پائیدار حل نکالے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بلوں کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو بھی طویل لوڈشیڈنگ کی سزا دینا کسی طور پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔
کراچی میں بجلی کے بحران کے باعث صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ پرانی تنصیبات اور تکنیکی خرابیوں کے باعث بھی کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے جس کی بروقت مرمت ناگزیر ہے۔
حکومتی سطح پر بھی بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے عوام امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ ادارے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں گے اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔
مستقبل میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے بڑے تجارتی مرکز میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے جسے یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

اپنی رائے دیں