#افغانستان
صفحہ اول ←
افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہ
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابلِ قبول ہے، ٹھوس اقدامات کے بغیر امن ممکن نہیں۔

پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعات
وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔

شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیا
پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کان کنی کے وسائل پر اختیار کی جنگ شمالی افغانستان میں بدامنی کی بڑی وجہ ہے۔
روس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دی
روسی سفیر نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرحدی کشیدگی کے جلد حل پر زور دیا۔
افغان حکومت کا واخان کوریڈور منصوبہ، ماہرین کی جانب سے عملی مشکلات کا اظہار
افغان حکام کی جانب سے واخان روڈ کے افتتاح کے باوجود ماہرین نے اسے تجارتی لحاظ سے غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف: افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔
افغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعات
وزارت اطلاعات نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو روکے۔
افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج
افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحدی دراندازی کے باعث پاکستان کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔
