لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں پیش آنے والے اسکوٹی تشدد کے ایک واقعے کے بعد سے عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے اور معاشرتی رویوں کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس ضمن میں انتظامی اور حکومتی سطح پر فوری نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
معاملے کے پس منظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں شہریوں بالخصوص خواتین اور محنت کش طبقے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے بارہا اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
اس پورے معاملے اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب سوشل میڈیا پر ایک شہری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے براہ راست سوال کیا۔ شہری نے اپنے پیغام میں استفسار کیا کہ اسکوٹی والی بچی پر تشدد کرنے والے شخص کے خلاف بھی اسی طرح کی کسی ویڈیو کا انتظار ہے۔
شہری کے اس سوال پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سوشل میڈیا کے توسط سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مریم نواز نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے خود اس متاثرہ لڑکی سے ٹیلی فونک رابطے کے ذریعے گفتگو کی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ انہوں نے گفتگو کے دوران لڑکی سے کہا کہ جتنی بار اس شخص نے اسے تھپڑ مارے ہیں، وہ بھی بدلے میں اسے اتنی ہی بار تھپڑ مارے۔ اس بیان کے ذریعے وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
مریم نواز کے مطابق متاثرہ لڑکی نے ان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے یہی بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ حکومت نے اسے مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ اسے بروقت اور منصفانہ طریقے سے انصاف کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے جس پر وہ مطمئن ہے۔
حکومتی ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاشرے میں کمزور طبقات یا خواتین پر تشدد کرنے والے عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس کا تعلق پٹرول پمپ کے ایک غریب ملازم پر تشدد کے واقعے سے تھا۔ اس ویڈیو میں پٹرول پمپ کے ملازم کو مبینہ طور پر تشدد کرنے والے شخص کو پولیس حراست میں تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
پٹرول پمپ ملازم کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی جس پر عوام کی جانب سے ملازم کی حمایت میں کمنٹس کیے گئے تھے۔ اس ویڈیو کے ساتھ اپنے پیغام میں مریم نواز نے سخت الفاظ میں ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے لکھا تھا کہ یہ مناظر ان مغرور اور بگڑے ہوئے افراد کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں جو غریب طبقے کو اپنے سے کمتر انسان تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دولت اور طاقت کے نشے میں مبتلا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ قانون توڑنے کے باوجود بچ نکلیں گے۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس عزم کو بار بار دہرایا گیا ہے کہ معاشرے میں عام آدمی کے حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ غریبوں یا کمزور افراد پر ہاتھ اٹھانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
معاشرتی سطح پر اس نوعیت کے رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے عوامی سطح پر بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ قانون اور سماجی حلقوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں۔
صوبائی حکومت کے ان اقدامات سے عام شہریوں میں یہ اعتماد بحال ہو رہا ہے کہ قانون کی بالادستی قائم ہے اور زیادتی کرنے والا کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے باہر نہیں رہ سکتا۔ انتظامیہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ آئندہ بھی اس قسم کے کسی واقعے پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں