پاکستان میں مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نو ہفتوں تک مسلسل مہنگائی میں اضافے کے بعد حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی رفتار میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کم ہو کر 11.38 فیصد پر آ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 23 اشیاء مہنگی ہوئیں جبکہ 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
قیمتوں میں اضافے کا شکار ہونے والی اشیاء میں چکن، دال چنا، دال ماش، دال مسور، ایل پی جی، ڈیزل، جلانے والی لکڑی، چائے اور آٹا شامل ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں مختلف تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چکن کی قیمت میں 3.31 فیصد، دال چنا میں 4.97 فیصد، دال ماش میں 0.98 فیصد اور دال مسور میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں 3.36 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں 0.62 فیصد، گڑ میں 0.36 فیصد، پیاز میں 4.90 فیصد اور ٹماٹر کی قیمت میں 23.05 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں بھی 0.70 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کیلے کی قیمت میں 2.59 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ یہ اشیاء عام آدمی کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں۔
حساس قیمتوں کے اعشاریے کے لحاظ سے مختلف آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار میں 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 8.19 فیصد رہی ہے۔
اس کے علاوہ 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے مہنگائی کی رفتار 8.99 فیصد رہی، جبکہ 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 9.54 فیصد رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے عوام پر بوجھ پڑ رہا ہے۔




اپنی رائے دیں