عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں جمعہ کے روز شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
جمعہ کے روز ایشیائی بازارِ حصص میں ٹیکنالوجی انڈیکس کی بنیاد پر نمایاں مندی دیکھی گئی، جس نے پورے خطے کے کاروباری حلقوں کو متاثر کیا۔
ایشیائی منڈیوں میں یہ گراوٹ مغرب، بالخصوص امریکی بازارِ حصص میں ہونے والی حالیہ بڑی فروخت کے تسلسل اور اثرات کے طور پر سامنے آئی ہے۔
مالیاتی مبصرین کے مطابق، اس عالمی فروخت اور حصص کی قیمتوں میں زوال کی بنیادی وجہ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کے کاروباری اعتماد میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
سرمایہ کاروں کو شدید اندیشہ لاحق ہے کہ ڈیموکریٹس کی فتح کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی صنعت پر سخت قانونی ضوابط اور پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کے عالمی شعبے کو یہ بھی خدشہ ہے کہ نئی قانون سازی کے تحت مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی تیاری کے عمل کو سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت کے نظام کو چلانے کے لیے درکار انتہائی وسیع ڈیٹا سنٹرز کی توسیع کے سامنے بھی اب کڑی شرائط رکھی جا سکتی ہیں۔
امریکی قانون سازوں کی جانب سے ان ڈیٹا سنٹرز کے لیے بجلی کی بے پناہ کھپت اور ماحولیاتی اثرات پر پہلے سے موجود تحفظات اب مزید قانونی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ان خدشات کے بازار میں آتے ہی عالمی منڈی میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ذیلی شراکت داروں کے شیئرز پر فروخت کا بھاری دباؤ بڑھ گیا۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ سے الجزیرہ کی نمائندہ کترینہ یو نے ایشیائی منڈیوں کے تازہ ترین اعداد و شمار پر رپورٹ دیتے ہوئے صورتِ حال کی سنگینی کو باقاعدہ اجاگر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹیکنالوجی ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان ممکنہ ریگولیٹری اقدامات سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب مغربی منڈیوں میں بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے اثرات اب دنیا بھر کے دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔


اپنی رائے دیں