پشاور کے علاقے حیات آباد میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جاں بحق ہو گئے۔
یہ افسوسناک واقعہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پیش آیا جہاں دن دیہاڑے فائرنگ کی گئی تھی۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعہ تھانہ حیات آباد کی حدود میں واقع فیز 5 کے نادرا آفس کے قریب پیش آیا۔
مقتول نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بتائے گئے ہیں جن کی شناخت فہد کے نام سے کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فہد ولد شاروم کا فور ڈھیری کے رہائشی تھے اور وہ اپنے دفتر کے قریب موجود تھے۔
حملہ آوروں نے انہیں نادرا دفتر کی پارکنگ میں نشانہ بنایا جہاں وہ اچانک ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ گئے۔
گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر موقع پر ہی دم توڑ گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
پولیس نے فوری طور پر پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
پولیس کے تفتیشی حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے تیس بور پستول کے آٹھ خالی خول برآمد ہوئے ہیں۔
ان تمام خالی خولوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور انہیں فرانزق تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے اب پارکنگ اور گر دو نواح میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جا رہی ہے۔
پولیس پارکنگ میں لگے کیمروں کی فوٹیج کی جانچ پڑتال کر رہی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔
مقتول اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسپتال میں ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کیے جانے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے یا اس کے پیچھے ذاتی دشمنی شامل ہے۔
اس کے علاوہ دیگر تمام ممکنہ پہلوؤں پر بھی جامع تفتیش جاری ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
پولیس کا عزم ہے کہ شواہد کی روشنی میں ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
علاقے میں اس لرزہ خیز واقعے کے بعد خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔


اپنی رائے دیں