یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات روس کی جانب سے کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک کے چار مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق، ونیٹسیا کے علاقے میں ہونے والے ایک حملے میں 13 سالہ بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے باعث ملک بھر میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی کٹوتی کی جا رہی ہے اور دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب، روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ مقامی گورنر گلیب نکیتن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو ایندھن کی خریداری میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ متاثرہ تنصیب تیل یا ایندھن کی سپلائی سے منسلک تھی۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ رات یوکرین کے 235 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز سے اب تک روس کے 433 میں سے 371 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کو مار گرایا ہے۔
یوکرین کے صدر نے ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ روسی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
دریں اثنا، خیرسون کے علاقے اولیشکی میں جاری مقامی جنگ بندی کا وقت اتوار کی رات ختم ہو رہا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی جس کا مقصد محصور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا تھا۔
یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دمیترو لوبینٹس کے مطابق، اس جنگ بندی کے دوران 94 سالہ بزرگ سے لے کر ایک سال کے بچے تک، سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ شہر فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے اور وہاں خوراک اور بجلی کی شدید قلت پائی جاتی تھی۔
یوکرین نے روس کے روستوو ریجن میں واقع کا مین سکی پلانٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو مبینہ طور پر روسی میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ماسکو کی جانب سے اس مخصوص حملے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریز پر حملے عالمی ایندھن کی منڈی میں عدم توازن پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کارروائیوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یوکرین کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے اہداف پر مکمل جنگ بندی کے حق میں ہے، تاہم ان کا الزام ہے کہ ماسکو اس معاہدے پر آمادہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا تبادلہ جاری ہے جس سے فرنٹ لائن کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔


اپنی رائے دیں