حکومتِ پاکستان نے ملک میں پیٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں اہم تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کو مقامی مارکیٹ تک پہنچنے سے روکنا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت آئل ریفائنریز کو موٹر اسپرٹ یعنی پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کا تعین کرنے کے لیے ایک نیا میکانزم اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس فارمولے کے ذریعے ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور انہیں عوام کی پہنچ میں رکھنے میں مدد ملے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، چار حصوں پر مشتمل اس نئے میکانزم میں درآمدی قیمتوں کو پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی کارگو لاگت سے براہِ راست منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریفائنری پرائسنگ کے مختلف اجزاء کو جنگ سے قبل کی سطح پر مقرر کیا گیا ہے تاکہ قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکا جا سکے۔
نئے فارمولے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ ریفائنریز کو قیمتوں میں فرق کی صورت میں اضافی رقم پیٹرولیم لیوی کے طور پر قومی خزانے میں جمع کرانی ہوگی۔ اس اقدام سے ریفائنریز کے منافع اور صارفین کے لیے قیمتوں کے درمیان ایک متوازن ڈھانچہ قائم رہے گا۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدامات عالمی منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں کیے گئے ہیں تاکہ مقامی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکا جا سکے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ اس نئے فارمولے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والا یہ نیا طریقہ کار ریفائنریز کو ایک مخصوص دائرہ کار میں کام کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اس سے قبل قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ہوتا تھا جو اکثر صارفین پر بوجھ بن جاتا تھا۔
نئے فارمولے کے تحت ریفائنریز اب اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھانے کے بجائے حکومتی سطح پر طے کردہ حدود کے اندر قیمتوں کا تعین کرنے کی پابند ہوں گی۔ یہ اقدام خاص طور پر اس وقت کیا گیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ توانائی کی درآمدات پر منحصر ہے، لہذا پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام ملکی معیشت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ حکومت کی جانب سے اس نئے فارمولے کو فوری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
پیٹرولیم سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فارمولے کے نفاذ سے ریفائنریز کے لیے قیمتوں کا تعین کرنا زیادہ شفاف ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف قیمتوں کا تعین آسان ہوگا بلکہ صارفین کو بھی ایک مستحکم قیمت پر ایندھن دستیاب ہو سکے گا۔
اس نئے میکانزم کے تحت ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات کو براہِ راست عوام تک پہنچائیں۔ حکومت کی جانب سے اس عمل کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ اس کے فوائد عام آدمی تک پہنچ سکیں۔



اپنی رائے دیں