غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے کی گئی مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں 8 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہلاکتیں اتوار کے روز ہونے والے ڈرون حملوں کے دوران پیش آئیں۔
خان یونس کے علاقے المواصی میں اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ پولیس اہلکار بنے، جس کے نتیجے میں 5 افراد شہید ہوئے۔ اسی طرح غزہ سٹی کے ری مال محلے میں ایک اور ڈرون حملے میں 4 سالہ بچے سمیت 3 فلسطینی شہید ہوئے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جان بوجھ کر کیا گیا جنگی جرم قرار دیا ہے۔ تنظیم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسران کو دورانِ ڈیوٹی نشانہ بنانا غزہ میں افراتفری پھیلانے اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔
حماس کے مطابق یہ کارروائیاں فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کا تسلسل ہیں، جس کے المناک نتائج مقامی آبادی مسلسل بھگت رہی ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ بین الاقوامی خاموشی اور ان جرائم کا مقابلہ کرنے میں ناکامی قابض فورسز کے حوصلے بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔
حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو بار بار نشانہ بنانے کا مقصد غزہ کی پٹی میں بحالی کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔


اپنی رائے دیں