مواد پر جائیں
جمعرات، 29 اکتوبر 2026 18 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:15
بریکنگ
کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزالاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرارلکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمدکراچی: بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیابلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاکآئی سی سی رینکنگ میں بڑی تبدیلی، مارکو جینسن اور ابھیشیک شرما نمبر ون بن گئےامریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیاکراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتارملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویشعالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دی
پاکستان بریکنگ نیوز

کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا

انسداد دہشت گردی عدالت نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے روٹ پر بیریئر ہٹانے اور پولیس سے ہاتھا پائی کے کیس میں فیصلہ سنا دیا۔

کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو مختلف قانونی دفعات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں جن میں قید اور جرمانے شامل ہیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا تھا جب سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے زیرو پوائنٹ پر وی آئی پی روٹ کے بیریئرز ہٹائے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیریئرز ہٹانے کے دوران ملزمان کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد تھانہ آبپارہ میں دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کل 7 گواہان کو عدالت میں پیش کیا، جن کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا گیا۔ ملزمان کے خلاف 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔

عدالت نے اس کیس میں اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کو مقرر کیا تھا جنہوں نے گواہان پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کیا گیا تھا، تاہم شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت سزا دی گئی ہے۔ دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دیگر دفعات کے تحت مزید قید اور جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے ملزمان کی مجموعی سزا کو 10 سال تک محدود رکھا ہے، جبکہ مجموعی طور پر انفرادی دفعات کے تحت یہ سزا 13 سال بنتی تھی۔ جرمانے کی مد میں بھی ملزمان کو بھاری رقم ادا کرنی ہوگی۔

فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احکامات پر جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین جیل پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں خواتین بیرکس منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہادی علی چٹھہ کو مرد جیل پولیس اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر جیل منتقل کیا۔ دونوں ملزمان اس مقدمے میں ضمانت پر رہا تھے، تاہم سزا کے اعلان کے بعد انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں درج کیا گیا تھا اور تب سے یہ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ آج کا فیصلہ اس طویل قانونی عمل کا حتمی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالت کی جانب سے کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ کونسل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاکہ قانونی کارروائی کو میرٹ پر مکمل کیا جا سکے۔

فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر بحث جاری ہے، جبکہ ملزمان کے وکلاء کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں