اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو مختلف قانونی دفعات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں جن میں قید اور جرمانے شامل ہیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا تھا جب سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے زیرو پوائنٹ پر وی آئی پی روٹ کے بیریئرز ہٹائے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیریئرز ہٹانے کے دوران ملزمان کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد تھانہ آبپارہ میں دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کل 7 گواہان کو عدالت میں پیش کیا، جن کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا گیا۔ ملزمان کے خلاف 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔
عدالت نے اس کیس میں اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کو مقرر کیا تھا جنہوں نے گواہان پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کیا گیا تھا، تاہم شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم دیا۔
عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت سزا دی گئی ہے۔ دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دیگر دفعات کے تحت مزید قید اور جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے ملزمان کی مجموعی سزا کو 10 سال تک محدود رکھا ہے، جبکہ مجموعی طور پر انفرادی دفعات کے تحت یہ سزا 13 سال بنتی تھی۔ جرمانے کی مد میں بھی ملزمان کو بھاری رقم ادا کرنی ہوگی۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احکامات پر جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین جیل پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں خواتین بیرکس منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہادی علی چٹھہ کو مرد جیل پولیس اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر جیل منتقل کیا۔ دونوں ملزمان اس مقدمے میں ضمانت پر رہا تھے، تاہم سزا کے اعلان کے بعد انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں درج کیا گیا تھا اور تب سے یہ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ آج کا فیصلہ اس طویل قانونی عمل کا حتمی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت کی جانب سے کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ کونسل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاکہ قانونی کارروائی کو میرٹ پر مکمل کیا جا سکے۔
فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر بحث جاری ہے، جبکہ ملزمان کے وکلاء کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔





اپنی رائے دیں