ملتان کے مصروف علاقے نگانہ چوک میں ایک زیر تعمیر کمرشل پلازا کی چھت کا بڑا حصہ اچانک گر پڑا جس کے نتیجے میں کئی مزدوروں کے ملبے تلے دب جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دی گئیں تاکہ امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب پلازا کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں اور اس دوران عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ناگہانی طور پر ہونے والے اس سانحے کے بعد علاقے میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور فورا مدد کے لیے پکار شروع کر دی گئی۔
ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ حادثے کے وقت پلازا کی عمارت پر اندازاً دس سے پندرہ مزدور کام میں مصروف تھے۔ چھت گرنے کے باعث یہ تمام محنت کش ملبے تلے دب گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ہیوی مشینری اور ریسکیو کا عملہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے واقعے کے فورا بعد ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی جا سکے اور متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ملتان کے نگانہ چوک جیسے تجارتی مرکز میں اس نوعیت کے حادثے نے تعمیراتی کاموں کے دوران حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور سیاسی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں جاری ایسی تعمیراتی عمارتوں کے حفاظتی اقدامات کا سخت جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
نگانہ چوک کا شمار ملتان کے انتہائی اہم اور تجارتی لحاظ سے مصروف ترین مقامات میں ہوتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گاڑیوں اور شہریوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ایسے پرہجوم مقام پر زیر تعمیر عمارت کا اچانک گر جانا انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے کیونکہ عمارتوں کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدہ میکانزم موجود ہونا چاہیے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اداروں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا گیا تھا اور ریسکیو کی گاڑیاں اور ایمبولینسز سائرن بجاتی ہوئی فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوئیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اولین ترجیح ملبے تلے دبے ہوئے مزدوروں کو زندہ باہر نکالنا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا ہے۔
حادثے کی جگہ پر موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آواز اتنی زیادہ خوفناک تھی کہ قریبی دکانوں اور دفاتر میں بیٹھے لوگ خوفزدہ ہو کر باہر نکل آئے۔ گرد و غبار کا ایک طوفان اٹھ گیا جس کی وجہ سے ابتدائی چند منٹ تک کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے اندھیرے میں ہی آگے بڑھے۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر حادثے کی جگہ کے گرد حفاظتی ہجوم کو ہٹانے کے لیے رسی لگا دی ہے تاکہ امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی مصروف شاہراہ پر ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت بلا تعطل جاری رہ سکے۔
عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کے حوالے سے بھی ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ تعمیراتی کام کے دوران سرکاری قوانین اور بلڈنگ بائی لاز کی پاسداری کی جا رہی تھی یا نہیں۔ اگر غفلت کا عنصر پایا گیا تو ذمہ داران کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ملتان کے ہسپتالوں میں بھی اس ناگہانی حادثے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایمبولینسز کے ذریعے زخمیوں کو مسلسل ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
شہر بھر کے فلاحی اداروں اور رضاکار تنظیموں کے کارکنان بھی نگانہ چوک پہنچ چکے ہیں جو ریسکیو اہلکاروں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے اور مزدوروں کی تلاش میں بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد بھی امدادی کارروائیاں دیکھنے کے لیے موقع پر جمع ہے جسے پولیس بار بار پیچھے ہٹا رہی ہے۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امدادی ٹیموں کے کام میں رکاوٹ نہ بنیں تاکہ قیمتی جانوں کو بچانے کا یہ مشکل آپریشن جلد از جلد اور احسن طریقے سے اپنے انجام کو پہنچ سکے۔ حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز بھی جلد متوقع ہے جو اس سانحے کی اصل وجوہات کو بے نقاب کرے گا۔

اپنی رائے دیں