مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:56
بریکنگ
کراچی: جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندوں کی گرفتاریوں پر امیر شہر کا ردعملاسلام آباد: اپنے بچوں کی نازیبا ویڈیوز فروخت کرنے والا سفاک باپ گرفتاراہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکمبس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفربلوچستان کے شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ، قلات کا درجہ حرارت ایک ڈگری ریکارڈجنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل اسٹیو اسمتھ کی فٹنس مشکوکلاہور میں سگریٹ کے ڈبوں میں ریت بھر کر فروخت کرنے والا نوسرباز گرفتاروزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکململک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحانایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ حکمنامے کیخلاف اپیلنریندر مودی کی 33 سال قبل وفات پانے والے سادھو کے ہولوگرام سے گفتگو وائرلحارث رؤف نے بگ بیش لیگ کیلئے ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہ کر لیاکراچی کے علاقے کورنگی میں گھر کے اندر فائرنگ سے بیس سالہ خاتون جاں بحقاسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گاعالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کو سپین کا اعلیٰ ترین ایوارڈ مل گیاپانچ روز کی مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہشیشہ سگریٹ سے کم نقصان دہ نہیں، طبی ماہرین کا اہم انکشافعدالتی حکم کے باوجود پی سی ایل سے نام نہ نکالنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی سخت سرزنشلاہور ہائیکورٹ نے بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی
دنیا

نریندر مودی کی 33 سال قبل وفات پانے والے سادھو کے ہولوگرام سے گفتگو وائرل

بھارتی وزیراعظم کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے برسوں پرانے سادھو سے گفتگو پر سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔

نریندر مودی کی 33 سال قبل وفات پانے والے سادھو کے ہولوگرام سے گفتگو وائرل

نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جدید ٹیکنالوجی کا انوکھا استعمال دیکھنے میں آیا جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت اور تھری ڈی ہولوگرام کی مدد سے کئی سال پہلے دنیا سے جانے والے ایک مذہبی رہنما سے مبینہ طور پر گفتگو کی ہے۔ اس تقریب کی وائرل ہونے والی ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کی توجہ فوراً مبذول کر لی ہے اور اس پر مختلف زاویوں سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

تقریب کا انعقاد دارالحکومت نئی دہلی کے نمایاں مقام بھارت منڈپم میں کیا گیا تھا جو چینمایا مشن کی پچھترویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ چینمایا امرت مہوتسو کا حصہ تھا۔ اس موقع پر جنریٹو اے آئی اور تھری ڈی پروجیکشن کی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے سوامی چینمایانند کا ایک متحرک ہولوگرام تیار کیا گیا تھا۔

سوامی چینمایانند تین اگست انیس سو تانوے کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، جن کی یاد میں تیار کردہ اس ڈیجیٹل اوتار نے ان کے چہرے کے نقوش، تاثرات اور آواز کی ہو بہو نقل کرنے کی کوشش کی۔ ہولوگرام کے ذریعے پیش کی جانے والی اس شخصیت نے ماضی کے ادوار کا ذکر کرتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا۔

مذکورہ اے آئی اوتار نے انیس سو تانوے میں وڈودرا کے مقام پر نریندر مودی کے ساتھ ہونے والی ایک پرانی ملاقات کا تذکرہ کیا۔ ہولوگرام نے مزاحیہ اور ستائشی انداز میں بھارتی وزیر اعظم سے بات چیت کی اور انہیں دوران گفتگو کھانا کھانے کی ہدایت بھی کی۔

نریندر مودی نے اس انوکھے سیشن کو ایک انتہائی روحانی تجربہ قرار دیا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے وہ تین دہائیوں سے زائد وقت پیچھے ماضی میں چلے گئے ہوں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تجربے کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

بھارتی وزیر ثقافت گجندر سنگھ شیخاوت نے اس واقعے کا دفاع کرتے ہوئے اسے مذہبی عقیدت اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک غیر معمولی سنگم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا یہ استعمال ماضی کی شخصیات کو یاد کرنے کا ایک منفرد طریقہ ہے۔

دوسری جانب، اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام اور ناقدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا ایک حربہ قرار دیا۔

کچھ ناقدین نے اس عمل کو مضحکہ خیز اور اخلاقی اصولوں کے منافی بھی قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وفات پا جانے والی مذہبی شخصیات کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس طرح پیش کرنا مناسب نہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ایسے استعمال سے سماجی اقدار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جدید دنیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب اس کے ذریعے تاریخی شخصیات کو ڈیجیٹل طور پر زندہ کرنے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ان تجربات کے اخلاقی اور سماجی اثرات پر عالمی سطح پر بھی سنجیدہ بحث جاری ہے۔

بھارت میں ہونے والے اس واقعے نے ایک بار پھر اے آئی کے اخلاقی استعمال کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اوتاروں کے ذریعے اس نوعیت کی گفتگو معاشرے میں ملا جلا تاثر چھوڑتی ہے اور اس پر مزید ضابطہ بندی کی ضرورت ہے۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس قسم کے واقعات چند لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد انٹرنیٹ پر بحث کا سلسلہ رک نہیں رہا اور ہر صارف اس پر اپنے نجی خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی اور مخالفین بھی اس معاملے پر آمنے سامنے آ چکے ہیں جہاں ایک طرف اسے علمی و تکنیکی ترقی قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے محض سیاسی تشہیر کا ایک نیا ڈھنگ بتایا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنریٹو اے آئی کے بے تحاشا استعمال کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے معاشرتی نقصانات سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ مستقبل میں ایسے مزید واقعات سامنے آنے کا قوی امکان موجود ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں