مواد پر جائیں
پیر، 26 اکتوبر 2026 15 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
شاداب خان کی شاندار سنچری، پاکستان نے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لیگولارچی: کتے کے کاٹنے سے متاثرہ 6 سالہ بچہ ویکسینیشن میں غفلت کے باعث جاں بحقنادرا شناختی کارڈ کی پرنٹنگ کے بعد کوالٹی کنٹرول کا عمل لازمی قراربرازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہروبسن انٹرنیشنل نے لاہور اسمارٹ سٹی پولو ان پنک ٹورنامنٹ جیت لیاقذافی اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دورہکراچی انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ: مصری کھلاڑیوں کا راج، ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئیشہداء کی قربانیوں پر سیاست کرنا افسوسناک ہے، رانا سکندر حیاتبرفانی تیندوا تلاش کریں: کیا آپ کی نظر تیز ہے؟وفاق کے ساتھ ہم آہنگی خیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، فیصل کریم کنڈیایران کے خلاف جارحیت کا ناقابلِ تصور جواب دیں گے، باقر قالیبافگوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہےسول سروسز اکیڈمی میں جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے بلاک کا افتتاحتمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے، عباس عراقچیراولپنڈی میں مبینہ غلط انجکشن لگنے سے پانچ سالہ بچی جاں بحق، عطائی گرفتاررضا اللہ کا اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرلراولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحققومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہانگلینڈ کا پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف، بین ڈکٹ کی سینچری
دنیا

برازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہ

لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

برازیل میں صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ، لولا دا سلوا اور فلیویو بولسونارو میں سخت مقابلہ

برازیل میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جس میں موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلیویو بولسونارو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے باعث انتخابی نتائج کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ 4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں فلیویو بولسونارو نے 47 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے برتری حاصل کی تھی، جبکہ صدر لولا دا سلوا تقریباً 45 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ کسی بھی امیدوار کی جانب سے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرنے کے باعث انتخاب دوسرے مرحلے تک پہنچ گیا۔

فلیویو بولسونارو، جو سابق صدر جائر بولسونارو کے صاحبزادے ہیں، نے ریو ڈی جنیرو میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ملک میں حقیقی تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔ انہیں اپنے والد کے سیاسی حامیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

فلیویو بولسونارو کی انتخابی مہم کے دوران جرائم کی روک تھام، معاشی مشکلات کا خاتمہ اور حکومتی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی جیسے معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ان کی کامیابی سے ملک میں ایک نئی سمت کا تعین ہوگا۔

دوسری جانب موجودہ صدر لولا دا سلوا نے ساؤ برنارڈو ڈو کامپو میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے پولنگ اسٹیشن کے باہر موجود اپنے حامیوں سے ملاقات بھی کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

لولا دا سلوا اپنی انتخابی مہم میں سماجی بہبود، غربت میں کمی اور جمہوری اداروں کے تحفظ پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے حامیوں نے دوسرے مرحلے سے قبل اپنی مہم کو انتہائی منظم طریقے سے چلایا تاکہ ووٹرز کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔

برازیل میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے بند ہونے کا شیڈول تھا، جو گرین وچ معیاری وقت کے مطابق رات 8 بجے کے مساوی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، روزگار کی فراہمی، جرائم، بدعنوانی اور ملکی معیشت جیسے موضوعات سرفہرست رہے۔

ماہرین کے مطابق ووٹرز کا یہ فیصلہ نہ صرف برازیل کی آئندہ داخلی پالیسیوں کے لیے اہم ہے بلکہ اس کے اثرات امریکا اور لاطینی امریکا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی مرتب ہوں گے۔ برازیل لاطینی امریکا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جس کے باعث اس کے سیاسی فیصلوں کو عالمی سطح پر دیکھا جاتا ہے۔

انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل ہو سکے۔ حکام نے ووٹرز سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کے لیے اپنا فیصلہ سنائیں۔

برازیل کے عوام اس انتخاب کو ملک کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ملک کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی اور آنے والے برسوں میں برازیل کی پالیسیاں کیا رخ اختیار کریں گی۔

دنیا بھر کے تجزیہ کار برازیل کے ان انتخابات کو لاطینی امریکا کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دونوں امیدواروں کی جانب سے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ عوام کے ووٹوں سے ہی ہوگا۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ممکنہ طور پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ردعمل سامنے آئے گا۔ ملک میں جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے ان انتخابات کو ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے جس پر عالمی مبصرین کی بھی گہری نظریں ہیں۔

پولنگ کے اختتام کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا جس کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ برازیل کے شہری اب ایک نئے دور کے آغاز کے منتظر ہیں، جہاں معاشی بہتری اور سماجی انصاف ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں