مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:58
بریکنگ
گوجرانوالہ میں ولیمے کی تقریب کو جاتے دلہا دلہن کی گاڑی پر فائرنگ، دلہن جاں بحققلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاکسہ ملکی ون ڈے سیریز، پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہروبسن انٹرنیشنل نے لاہور اسمارٹ سٹی پولو ان پنک ٹورنامنٹ جیت لیاقذافی اسٹیڈیم میں سہ ملکی سیریز: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا دورہکراچی انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ: مصری کھلاڑیوں کا راج، ٹائٹلز اپنے نام کر لیےکروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم تعلیمی بحران کا حل نہیں، جے یو آئیشہداء کی قربانیوں پر سیاست کرنا افسوسناک ہے، رانا سکندر حیاتبرفانی تیندوا تلاش کریں: کیا آپ کی نظر تیز ہے؟وفاق کے ساتھ ہم آہنگی خیبر پختونخوا کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، فیصل کریم کنڈیایران کے خلاف جارحیت کا ناقابلِ تصور جواب دیں گے، باقر قالیبافگوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہےسول سروسز اکیڈمی میں جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے بلاک کا افتتاحتمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کے بغیر خطے میں امن ناممکن ہے، عباس عراقچیراولپنڈی میں مبینہ غلط انجکشن لگنے سے پانچ سالہ بچی جاں بحق، عطائی گرفتاررضا اللہ کا اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرلایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا، محسن نقویراولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحققومی ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہانگلینڈ کا پاکستان کو جیت کے لیے 242 رنز کا ہدف، بین ڈکٹ کی سینچری
دنیا

ایران کا بندر عباس کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی ساحلی شہر کی فضائی حدود میں امریکی ساختہ ڈرون نشانہ بنایا گیا۔

ایران کا بندر عباس کے قریب امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

تہران کی جانب سے ایک اہم فوجی دعویٰ سامنے آیا ہے جس کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ملک کے جنوبی ساحلی علاقے میں ایک غیر ملکی بغیر پائلٹ طیارہ تباہ کر دیا ہے۔ ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بندر عباس کے قریب عمل میں لائی گئی جہاں مبینہ طور پر ایک امریکی ڈرون کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے توسط سے جاری ہونے والے اس بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ مار گرایا جانے والا یہ بغیر پائلٹ طیارہ امریکی ساختہ ایل یو سی اے ایس (LUCAS) تھا جسے جدید فوجی کارروائیوں اور مختلف مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق یہ بغیر پائلٹ طیارہ نسبتاً کم لاگت والا جنگی آلہ تصور کیا جاتا ہے تاہم تہران کی عسکری قیادت کی جانب سے اس واقعے کی مزید تکنیکی تفصیلات یا اس کو نشانہ بنانے والے دفاعی نظام کے بارے میں فی الحال زیادہ معلومات عام نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب اس واقعے کے تناظر میں خطے میں کشیدگی کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیجی پانیوں اور ملحقہ علاقوں میں اس نوعیت کے متعدد فضائی اور بحری تنازعات سامنے آتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ حالیہ واقعہ ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی تہران کے حوالے سے سخت بیانات اور خطے میں ممکنہ فوجی اقدامات کے بارے میں دھمکیاں یا اشارے دیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا وقت کسی بھی وقت آ سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی بڑا سفارتی معاہدہ طے پا جائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی ممکنہ عسکری کارروائی کے حتمی وقت کا تعین نہیں کریں گے لیکن انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ تہران کے معاملے کو اب تک بہت اچھے طریقے سے ہینڈل کیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ باقی ماندہ امور کو بھی جلد ہی انجام تک پہنچایا جائے، جس سے خطے میں جنگی جنون اور سفارتی ڈیڈ لاک میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ بندر عباس کے قریب اس ڈرون کے مار گرائے جانے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری لفظی جنگ اور کشیدگی میں مزید خطرناک موڑ آ سکتا ہے جو عالمی امن کے لیے بھی تشویشناک ہے۔

ایران کے عسکری حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کا بھرپور دفاع کیا جائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

ایرانی دفاعی تنصیبات اور سکیورٹی فورٹس کو پہلے سے ہی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے اور ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک اس کشیدہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔

موجودہ حالات اس بات کے غماز ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر رابطوں میں تیزی آنے کا امکان ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں