لاہور میں صوبائی حکومت کی دو سرکردہ خواتین شخصیات کے مابین پولیس مقابلوں کے معاملے پر خیالات کا اختلاف کھل کر سامنے آ گیا ہے، جہاں وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ آمنے سامنے آ گئی ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پولیس کی کارروائیوں اور مقابلوں کے حوالے سے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا اور نجی نوعیت کی آرا عوامی سطح پر بحث کا موضوع بن گئیں۔
معاملے کا آغاز حنا پرویز بٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے ایک بیان سے ہوا جس میں انہوں نے ملتان میں ایک ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے واقعے پر پولیس کی کارروائی کی کھل کر تحسین کی تھی۔
حنا پرویز بٹ نے اپنے پیغام میں درج کیا تھا کہ یہ صوبے میں موجودہ حکومتی ڈھانچے کا کمال ہے جہاں جرائم پیشہ عناصر کو تاخیر کے بغیر فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے اور قانون حرکت میں آتا ہے۔
ان کا یہ بیان سیاسی حلقوں میں فوری طور پر توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ اس میں پولیس مقابلوں کو حکومتی کارکردگی اور فوری انصاف کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس پر دیگر حلقوں کی جانب سے بھی تبصرے کیے جانے لگے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حنا پرویز بٹ کے اس بیان پر انتہائی سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور اسے ایک غیر سنجیدہ موقف قرار دیتے ہوئے حکومتی انتظامیہ کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا۔
عظمیٰ بخاری کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ صوبے کی اعلیٰ قیادت بالخصوص وزیراعلیٰ مریم نواز نے کبھی بھی پولیس مقابلوں کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی اور نہ ہی اس طرح کے اقدامات کو سرکاری پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بیانات حکومت کی حقیقی کارکردگی اور قانون کی بالادستی سے متعلق اقدار کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ اس سے انتظامی امور پر غیر ضروری سوالات جنم لیتے ہیں۔
وزیر اطلاعات کی جانب سے اس کھلی تنقید کے بعد حنا پرویز بٹ نے بھی خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنے دفاع میں ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں ان کے مؤقف کی مزید وضاحت کی گئی تھی۔
حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ ان کا پہلا بیان کسی بھی طور پر حکومت کے خلاف کوئی باضابطہ چارج شیٹ یا کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے پر تنقید کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر اطلاعات کی طرف سے کی جانے والی تنقید غیر ضروری اور بے بنیاد ہے کیونکہ ان کی ذاتی رائے کو کم علمی یا نامناسب قرار دینا درست رویہ نہیں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی جماعت کی دو اہم خواتین رہنماؤں کا اس حساس معاملے پر عوامی سطح پر متضاد آرا کا اظہار کرنا پارٹی کے اندرونی آہنگ پر سوالات اٹھاتا ہے جس پر اعلیٰ قیادت کو نوٹس لینا پڑ سکتا ہے۔
پنجاب میں پولیس مقابلوں کا معاملہ طویل عرصے سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی مخالفین کی تنقید کی زد میں رہا ہے، جہاں حکومت کی طرف سے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمانوں کی جانب سے ماضی میں بھی یہ مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ پولیس کو کسی بھی مشتبہ شخص یا مجرم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا اختیار حاصل ہے لیکن ماڈل ٹاؤن یا دیگر واقعات کی طرح سخت اقدامات سے گریز کیا جاتا ہے۔
حالیہ واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ آیا سیاسی عہدیداروں کو حساس نوعیت کے سکیورٹی معاملات پر ذاتی آرا کا اظہار کرنے سے گریز کرنا چاہیے یا نہیں۔
دونوں رہنماؤں کے مابین سوشل میڈیا پر ہونے والی اس گرما گرم بحث کے بعد ن لیگ کی اندرونی صفوں میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں اور کارکنان بھی اس پر اپنے الگ خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں جب حکومت پہلے ہی مختلف چیلنجز سے نبردآزما ہے، اس قسم کے اندرونی بیانات حکومتی مورال کے لیے کسی طور پر سودمند ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔
عوام اور مبصرین اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا پارٹی قیادت اس معاملے کا نوٹس لے کر دونوں رہنماؤں کو اس طرح کے بیانات دینے سے روکتی ہے یا پھر یہ لفظی جنگ مزید آگے بڑھتی ہے۔





اپنی رائے دیں