تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی انتظامیہ کے مذاکراتی طرز عمل پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ عقلی اور بامعنی مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ ایرانی عوام کے مذہبی عقائد نہیں بلکہ امریکی حکومت کا غیر لچکدار رویہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے حالیہ بیان میں اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ مذہبی وابستگی عقلیت پسندی کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سیکولرازم کسی بھی معاشرے میں دانش مندی کی حتمی ضمانت نہیں ہے، اسی طرح مذہب پر ایمان لانا بھی عقلی بنیادوں پر بات چیت کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔
ترجمان نے امریکی انتظامیہ سے سوال کیا کہ ان کی اپنی جانب سے سفارتی وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا ایرانیوں کے مذہبی عقائد سے کیا تعلق ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کے عقائد کو ٹھہرانے کے بجائے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکی حکومت کا موجودہ مذاکراتی انداز حقیقی سفارت کاری کے بجائے یکطرفہ شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا باہمی رعایتوں کے اصول کو تسلیم نہیں کرتا اور دوسرے فریق کے جائز مفادات کو نظر انداز کرتا رہے گا، تب تک کسی پائیدار معاہدے کا حصول ممکن نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ ایرانی عوام کے بارے میں نظریاتی تعصبات پر مبنی مفروضے قائم کرنے کا سلسلہ بند کرے۔ اس کے برعکس، واشنگٹن کو ایران کے تزویراتی مفادات اور قومی سلامتی سے متعلق جائز خدشات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا دوسروں پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنے ٹوٹے ہوئے وعدوں اور سفارتی ریکارڈ کا جائزہ لے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب فریقین ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں اور طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک کی جائے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے مابین طویل عرصے سے کشیدگی پائی جاتی ہے، جس کے باعث مختلف عالمی امور پر مذاکرات تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ تہران کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکا کا دباؤ ڈالنے کا طریقہ کار خطے میں عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر سفارتی حل تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ مطالبات اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو کسی معاہدے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ تہران کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر یہ تنقید سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان جاری سرد مہری کی عکاسی کرتی ہے۔
ایرانی ترجمان نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارت کاری کا مطلب باہمی احترام اور مساوی حقوق کی بنیاد پر بات چیت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی انتظامیہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائے گی۔
تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کردہ پابندیاں اور دباؤ کی پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی ہے۔ ایران مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے تاکہ خطے میں امن و امان کی فضا قائم ہو سکے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ایران کے لیے اپنے قومی مفادات کا تحفظ سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ مذہبی عقائد کو مذاکرات میں رکاوٹ قرار دینا ایک غلط بیانیہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ایران کا یہ مؤقف ہے کہ اگر امریکا اپنے رویے میں تبدیلی لاتا ہے اور باہمی احترام کو یقینی بناتا ہے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم، تہران کسی بھی ایسی پیشکش کو مسترد کرتا ہے جو اس کی خودمختاری کے خلاف ہو۔





اپنی رائے دیں