مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:18
بریکنگ
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلایل پی جی کی قیمتوں میں شفافیت لائیں گے، ناجائز منافع خوروں کیخلاف کارروائی ہوگی: علی پرویز ملکپاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، نئی قیمتوں کا اطلاقپٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمانسردیوں میں گیس کی قلت کا خدشہ، 2 ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کا فیصلہ تاخیر کا شکارامریکی قومی قرض 40.4 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیاامریکہ کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ناگزیر ہے: مارکو روبیوامریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز بلیک لسٹپاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمیسرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مستقل ملازمتیں ختم، کنٹریکٹ سسٹم نافذصدر آصف علی زرداری اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاقوزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاقکراچی: لیاری میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شہری زخمیشمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیا
دنیا

امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز بلیک لسٹ

امریکی محکمہ خزانہ نے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ایران کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز بلیک لسٹ

امریکا نے ایران کے خلاف اپنی اقتصادی دباؤ کی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان پابندیوں کی زد میں 5 افراد، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز آئے ہیں۔

یہ نئی پابندیاں 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' کے تحت عائد کی گئی ہیں، جس کا مقصد ایران کی جانب سے کی جانے والی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں اور ان میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے کا حصہ ہیں۔

پابندیوں کی فہرست میں شامل اداروں میں سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں قائم شپنگ ایجنٹس بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر دبئی میں قائم 'وائلر شپنگ لائن' نامی کمپنی کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے، جو ایران کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کرنے میں ملوث بتائی جاتی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، پابندیوں کی زد میں آنے والے 9 بحری جہازوں کا تعلق پاناما اور متحدہ عرب امارات سے ہے۔ ان جہازوں کو ایران کی اقتصادی معاونت میں کردار ادا کرنے کی بنیاد پر بلیک لسٹ کیا گیا ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔

امریکی وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف یہ کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے۔ امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے تحت مزید جنگی جہاز اور فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ان پابندیوں کا مقصد ایران کی سمندری تجارت کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے تاکہ اسے عالمی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔ اس سے قبل بھی امریکا ایران کی تیل اور شپنگ انڈسٹری پر متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

ایران کی جانب سے ان نئی پابندیوں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تہران ماضی میں امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کی معیشت پر مزید بوجھ ڈالیں گی، خاص طور پر شپنگ اور لاجسٹک کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اس سے قبل بھی کئی کمپنیاں اسی طرح کی پابندیوں کے بعد اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل افراد کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے کاروباری لین دین سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی لائنوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان پابندیوں کو اسی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مستقبل میں ان پابندیوں کے اثرات کیا ہوں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ فی الحال، واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی سخت گیر پالیسی پر قائم رہے گا اور کسی بھی قسم کی معاونت کرنے والے عناصر کو نہیں بخشا جائے گا۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں