امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ خلیجی خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکی حکام نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس انخلا کا بنیادی مقصد سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
اس پیش رفت کے پس منظر میں یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا خدشہ ہے۔ حالیہ دنوں میں ریاض کے ہوائی اڈے سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے بدھ کے روز ایک سکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا تھا۔ اس الرٹ میں امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں مزید حملے ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں موجود دیگر امریکی سفارتی مشنز کے حوالے سے بھی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
واضح رہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی حدود میں ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان حملوں کے باعث خطے میں امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کا جواب دینے اور اپنی فضائی حدود کے دفاع کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری بھی خطے میں جاری اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سعودی عرب میں قیام کے دوران سکیورٹی الرٹس پر عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کو فالو کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، امریکی عملے کا انخلا خطے میں جاری تناؤ کی ایک بڑی علامت ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں کسی بھی ممکنہ بڑے سکیورٹی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار رہنا چاہتا ہے۔
سعودی عرب اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے سکیورٹی اور دفاعی تعاون قائم ہے۔ دونوں ممالک کے حکام اس صورتحال پر مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی عملے کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے اور سکیورٹی خدشات کو دور کیا جا سکے۔
حالیہ سکیورٹی الرٹ میں امریکی سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ریاض نے ان حملوں کی بارہا مذمت کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے تاہم یہ واضح کیا ہے کہ سفارتی عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اسے جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
اس صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب میں موجود دیگر ممالک کے سفارتی مشنز بھی اپنی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ خطے میں جاری یہ کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور تجارتی راستوں کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔





اپنی رائے دیں