مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:37
بریکنگ
امریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلوزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاقکراچی: لیاری میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شہری زخمیشمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیالاہور میں موسم خشک، بارش کا کوئی امکان نہیں: محکمہ موسمیاتسندھ میں 39 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاریایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کی اہم ملاقاتپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈجماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کا تیسرا مرحلہ جمعہ سے شروع ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریفاسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰنئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹسکراچی میں اگلے تین روز تک موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئیاحتجاج کی ناکام حکمت عملی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے، شوکت یوسفزئیفنکار کبھی اپنے کام سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، علی عظمتگندم کی وافر دستیابی، تمام صوبوں میں مؤثر اقدامات کی ہدایت
پاکستان بریکنگ نیوز

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہ

چاروں ممالک نے سکیورٹی اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے فروغ کے لیے 'بدر مفاہمتی یادداشت' پر دستخط کر دیے۔

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہ

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے باہمی دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران طے پایا۔

اس تاریخی معاہدے کو 'بدر مفاہمتی یادداشت' کا نام دیا گیا ہے۔ اس اہم دستاویز پر دستخط کرنے والوں میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف، ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یاشار گولر، قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمٰن الثانی شامل ہیں۔

انڈونیشیا کی جانب سے اس معاہدے پر ان کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری نے دستخط کیے۔ اس موقع پر چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام نے دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

ترک وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس معاہدے کا بنیادی مقصد چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی روابط استوار کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔

معاہدے کے تحت چاروں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد اور پیشہ ورانہ تربیتی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سے نہ صرف افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔

دفاعی تحقیق اور ترقی (R&D) کے شعبے میں تعاون اس معاہدے کا ایک کلیدی حصہ ہے۔ چاروں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ منصوبوں پر کام کریں گے تاکہ خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ترک دفاعی صنعتی ایجنسی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت پہلے سے جاری دفاعی منصوبوں کو تیز کرنے اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرے گی۔

پاکستان کے لیے یہ معاہدہ دفاعی شعبے میں اپنی شراکت داری کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان ترکیہ اور قطر کے ساتھ مختلف دفاعی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

قطر کی میزبانی میں ہونے والی اس تقریب کو خطے کے دفاعی توازن کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چاروں ممالک کے درمیان یہ اشتراک عمل مستقبل میں دفاعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک کا دفاعی اتحاد نہ صرف ان کی اپنی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط دفاعی بلاک کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

معاہدے کے بعد چاروں ممالک کے وفود کے درمیان الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس معاہدے پر جلد عملدرآمد شروع کریں گے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس موقع پر کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت برادر ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

ترک وزیر دفاع یاشار گولر نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا یہ نیا باب خطے میں امن کے قیام کے لیے معاون ثابت ہوگا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں