وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات بارہ بجے سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 390 روپے 11 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ قیمتیں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین کا عمل باقاعدگی سے ہر پندرہ روز بعد کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی سے عام آدمی کو کچھ حد تک ریلیف ملے گا، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ قیمتوں میں توازن برقرار رکھا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور ملکی کرنسی کی قدر کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا مقصد صارفین کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے ہم آہنگ رکھنا ہے۔
نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کے مطابق فروخت شروع کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہر صورت میں کیا جائے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والی وزارت خزانہ وقتاً فوقتاً اوگرا کی سفارشات کی روشنی میں فیصلے کرتی ہے۔ یہ اقدامات ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی بھی جگہ قلت کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نئی قیمتوں کے مطابق ہی ادائیگی کریں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 379 روپے 31 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 390 روپے 11 پیسے فی لیٹر کے حساب سے وصول کی جائے گی۔ یہ قیمتیں اگلے نوٹیفکیشن تک برقرار رہیں گی۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام پاکستان کے لیے اہم ہے تاکہ درآمدی بل کو کنٹرول کیا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل اسی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ تبدیلی عوام کے لیے ایک اہم خبر ہے کیونکہ اس کا اثر براہ راست مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
آئندہ دنوں میں عالمی منڈی کے حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے گریز کیا جائے۔





اپنی رائے دیں