وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد ملک سے باہر محفوظ ماحول میں بیٹھ کر اپنے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ یوٹیوبرز اپنی منفی اور اشتعال انگیز پوسٹس کے ذریعے ڈالرز کما رہے ہیں، جبکہ ان کی ان حرکتوں کا خمیازہ پاکستان کے اندر موجود پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ان افراد کو پی ٹی آئی کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ ایک عجیب صورتحال ہے کہ جن لوگوں کی حمایت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، انہی کی مشکلات اور آزمائشوں کو بیچ کر یہ لوگ اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ عمل اخلاقی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی افسوسناک ہے۔
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب پی ٹی آئی اقتدار میں تھی تب بھی یہ یوٹیوبرز خوب کمائی کر رہے تھے، اور آج جب وہ اقتدار میں نہیں ہیں تب بھی ان کی کمائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پوری جماعت کو انہی یوٹیوبرز نے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق، بیرون ملک بیٹھے یہ افراد سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر کے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسی اشتعال انگیزی سے ملکی سیاست میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کا نقصان براہ راست سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں سیاسی رہنما اکثر اس طرح کے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ حکومتی وزراء کا ماننا ہے کہ بیرون ملک سے چلنے والے پروپیگنڈا نیٹ ورکس ملکی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والی بحث اور تنقید اب قومی سیاست کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ تاہم، اس کے منفی استعمال پر حکومتی سطح پر تحفظات کا اظہار مسلسل کیا جاتا رہا ہے۔
خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد کے درمیان لفظی جنگ میں سوشل میڈیا کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
وزیر دفاع نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانیے کو درست کریں اور ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو ان کے نام پر اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقائق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی حکومتی عہدیدار نے بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر تنقید کی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا کے ضوابط اور اس کے استعمال پر بحث کافی عرصے سے جاری ہے۔ حکومت کی جانب سے اکثر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے تاکہ غلط معلومات کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
خواجہ آصف کی جانب سے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بیان سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعت کی جانب سے اس بیان پر کیا ردعمل آتا ہے، اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر، وزیر دفاع کا یہ بیان ملکی سیاست میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سیاسی بیان بازی متوقع ہے۔





اپنی رائے دیں