مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:56
بریکنگ
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلامریکہ کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ناگزیر ہے: مارکو روبیوامریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 4 کمپنیاں اور 9 بحری جہاز بلیک لسٹپاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمیسرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مستقل ملازمتیں ختم، کنٹریکٹ سسٹم نافذصدر آصف علی زرداری اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاقوزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاقکراچی: لیاری میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شہری زخمیشمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیالاہور میں موسم خشک، بارش کا کوئی امکان نہیں: محکمہ موسمیاتسندھ میں 39 بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاریایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور اسپیکر محمد باقر قالیباف کی اہم ملاقاتپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈجماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کا تیسرا مرحلہ جمعہ سے شروع ہوگا
پاکستان بریکنگ نیوز

ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگا

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق مہم کے دوران 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگا

پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے اور بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اور اہم قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر 2026 سے کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد ملک کے ان اضلاع میں بچوں کی قوت مدافعت کو بڑھانا ہے جہاں پولیو کے وائرس کا خطرہ موجود ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس خصوصی مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مہم کے لیے ملک بھر کے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے 97 اضلاع کو منتخب کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام تر انتظامی اور حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔

صوبائی سطح پر تقسیم کے حوالے سے پنجاب کے 13 اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ اسی طرح سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کو مہم میں شامل کیا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی انسداد پولیو مہم کے تحت 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ گلگت بلتستان کے 3 اضلاع میں 1 لاکھ 53 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

آزاد کشمیر کے 2 منتخب اضلاع میں بھی مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں 1 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق یہ مہم 2 سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔

پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اداروں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔

حکومت پاکستان نے پولیو کے مکمل خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کو پولیو سے پاک کیا جا سکے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو کے قطرے بار بار پلانے سے ہی بچوں میں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ہر مہم میں بچوں کو قطرے پلانا انتہائی ضروری ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم کے دوران سیکیورٹی اور دیگر لاجسٹک انتظامات کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ پولیو ورکرز کی تربیت اور ان کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔

پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں کمی لانے کے لیے گزشتہ برسوں میں مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم مکمل خاتمے تک مہمات جاری رہیں گی۔

عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے تعاون کریں اور اپنے بچوں کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ رکھیں۔ پولیو کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے جس میں ہر شہری کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں