اسلام آباد کے وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک حادثات کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جہاں دامن کوہ سنگل کے مقام پر ایک سرکاری گاڑی بے قابو ہو کر موٹرسائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل پر سوار دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس ذرائع سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی سرکاری گاڑی کو رکن قومی اسمبلی خرم شہزاد نواز کا بیٹا چل رہا تھا، جس کے بعد اس واقعے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کر لی ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے اس اہم مقام پر ہونے والے اس واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے تمام ضروری شواہد اکٹھے کیے اور ٹریفک کو بھی بحال کیا۔
حاصل ہونے والی رپورٹس کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے جو موٹرسائیکل پر سفر کر رہی تھی، اور اس واقعے کے بعد شہریوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جو سڑکوں پر احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔
مارگلہ پولیس اسٹیشن میں اس ٹریفک حادثے کا باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے گی تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ قانون کے مطابق تمام ضابطے کی کارروائی پوری کی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تفتیش کے دوران تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
یاد رہے کہ خرم شہزاد نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس نوعیت کے واقعے میں سرکاری گاڑی کی شمولیت کو میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے دونوں افراد کو طبی عملے کی زیر نگرانی ضروری طبی امداد دی جا رہی ہے اور ان کی حالت پر ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اکثر یہ ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ دارالحکومت کی سڑکوں بالخصوص دامن کوہ اور مضافاتی علاقوں میں تیز رفتاری سے گریز کیا جائے تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار حادثات سے محفوظ رہا جا سکے اور قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
مقامی شہریوں اور عینی شاہدین نے بھی حادثے کے فوری بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کو سڑک سے ہٹا کر اسپتال منتقلی کے عمل میں مدد فراہم کی، جو کہ شہریوں کے اندر پائے جانے والے سماجی احساس کی ایک مثبت مثال ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد اب قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور گاڑی چلانے والے نوجوان سے بھی ضابطے کے مطابق پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ حادثے کے وقت کے حالات کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور حقائق سامنے آئیں۔
اسلام آباد پولیس کا یہ عزم ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں یا غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا چاہے گاڑی کوئی بھی استعمال کر رہا ہو۔
اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور جیسے جیسے تفتیش میں پیش رفت ہو گی، پولیس کی جانب سے مزید تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جائے گا تاکہ اس حادثے کے تمام قانونی اور تکنیکی پہلو مکمل طور پر واضح ہو سکیں۔





اپنی رائے دیں