وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتظامیہ نے ایچ نائن اور جی سکس کے مشہور ہفتہ وار بازاروں کو عارضی طور پر بند کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ حادثات سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں اہم ہفتہ وار بازار سولہ اکتوبر سے شہریوں کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔ اس فیصلے کی منظوری چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن اسلام آباد نے دی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ہفتہ وار بازاروں کی بندش کی بنیادی وجہ فائر سیفٹی کے باقاعدہ اقدامات کا عدم وجود ہے۔ جب تک بازاروں میں آگ بجھانے کے تمام ضروری ترتیبات مکمل نہیں کی جاتیں، تب تک کسی قسم کے تجارتی عمل کی اجازت نہیں ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے فائر سیفٹی کلیئرنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کلیئرنس سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد ہی بازاروں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
ایچ نائن اور جی سکس کے بازاروں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر تمام حفاظتی معیارات کو پورا کریں۔ فائر فائٹنگ آلات کی تنصیب اور ہنگامی راستوں کی صفائی جیسے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔
اسلام آباد کا ایچ نائن سستا بازار وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا ہفتہ وار بازار تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں ہر ہفتے ہزاروں شہری سستے پھل، سبزیاں، کپڑے اور دیگر گھریلو سامان خریدنے کے لیے دور دور سے آتے ہیں۔
ماضی میں ایچ نائن بازار میں آگ لگنے کے متعدد خوفناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان آتشزدگیوں کے نتیجے میں ہر بار دکانداروں کے کروڑوں روپے کے قیمتی سامان جل کر خاکستر ہوئے اور بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان حادثات کی بڑی وجوہات میں شارٹ سرکٹ، کپڑے کے عارضی اسٹالز، خستہ حال وائرنگ اور فائر فائٹنگ سہولیات کا فقدان شامل رہا ہے۔ انہی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار سخت ترین سیکیورٹی و سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جی سکس کا ہفتہ وار بازار بھی وفاقی دارالحکومت کے قدیم ترین بازاروں میں شمار ہوتا ہے جہاں مقامی رہائشی روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی خریداری کرتے ہیں۔ اس بازار میں بھی حفاظتی تدابیر کے سخت اطلاق کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
سی ڈی اے اور ایمرجنسی سروسز کی مشترکہ ٹیمیں جلد دونوں بازاروں کا تفصیلی معائنہ کریں گی۔ معائنے کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے درست راستے موجود ہیں یا نہیں۔
بازاروں کی بندش سے عام شہریوں اور خریداروں کو عارضی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم شہریوں اور تاجروں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر تھا۔
متاثرہ تاجروں اور اسٹال ہولڈرز نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فائر سیفٹی کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ ان کا روزگار زیادہ عرصے تک متاثر نہ ہو اور سستے بازار دوبارہ کھولے جا سکیں۔
میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور حفاظتی امور پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ اداروں سے کلیئرنس ملتے ہی نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں