مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:56
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالپاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینکایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکرٹری منتخباسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، سفارت کاری پر زورخیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اہم انکشافاتبیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالاتنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہدہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹودہشت گردی کیخلاف جنگ کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹوامریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہمعیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریفلاہور بورڈ کا کھیلوں کے فروغ کیلئے بجٹ بڑھا کر ساڑھے 6 کروڑ کر دیا گیاپاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلائی مشن پر روانہ ہوگا، احسن اقباللاہور میں پٹرولنگ آفیسر سے بدتمیزی کرنے والا نوجوان گرفتار، مقدمہ درجلاہور میں پولیس حراست میں موجود ملزم ہسپتال میں دم توڑ گیاپنجاب پولیس کے سب انسپکٹرز کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس کل ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گےلاہور کے گلاب دیوی اسپتال میں ہنگامہ، ڈاکٹرز اور لواحقین میں جھگڑاپی آئی اے کا بوئنگ 777 طیاروں میں نئی بزنس کلاس سیٹیں نصب کرنے کا فیصلہ
پاکستان

دہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹو

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے اہم اور حساس قومی مسئلے پر کسی کو بھی سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔

سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس تشریف لائی تھیں، تو پارٹی کے جیالوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ان کا استقبال کیا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیوں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کے خلاف یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔

سیاسی مفاہمت اور جمہوریت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست اصل میں سمجھوتے اور بات چیت کا دوسرا نام ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مل بیٹھ کر ملکی مفاد میں فیصلے کیے۔ انہوں نے مثال دی کہ سابق صدر پرویز مشرف کو آئینی طریقے سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنا اور ملک میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری اسی سیاسی فہم و فراست اور قومی اتفاق رائے کا نتیجہ تھی۔

موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے منشور کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئینی اور جمہوری جدوجہد کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی کو پارٹی کی طرف سے نامزد کیا گیا تھا اور وہ بحیثیتِ گورنر متعلقہ صوبائی بیوروکریسی اور وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل آہنگ ہو کر آئینی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے متعلق پوچھے گئے ایک اور سوال پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آئین پاکستان میں اس حوالے سے تمام طریقہ کار اور ضابطے بالکل واضح درج ہیں۔ اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی آئینی تقاضوں کے مطابق کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو اس کے بعد آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی رہنما کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے کارکنوں نے بھی ماضی میں دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں، اور حکومت سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتیں ان کا احترام کرتی ہیں۔

ملکی سلامتی اور امن و امان کے امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں دہشت گردی کا مؤثر ادراک کرتے ہوئے اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت کے خلاف گورنر راج کا آئینی قدم اٹھایا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عرصہ قبل بعض صوبوں میں متعلقہ انتظامی سربراہان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کیا، جس سے حالات مزید پیچیدہ ہوئے۔

انہوں نے سوات کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب بعض عناصر وہاں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا چاہتے تھے، لیکن اس وقت کی قیادت نے عزم کیا کہ سوات میں پاکستان کا پرچم لہراتا رہے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھرپور عزم کے ساتھ آپریشن کرکے دہشت گردوں کو تاریخی شکست دی گئی اور ریاست نے اپنی رٹ بحال کی۔

قومی سلامتی کے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی ہماری بہادر افواج اور پولیس کے جوان ملک و قوم کی خاطر جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کے ہر شہری نے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اور اس ناسور کو ہلکا لینے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران سے نجات دلانے کے لیے امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس خطرے کا مقابلہ نہیں کریں گے، پائیدار ترقی اور خوشحالی کا ہندسہ حاصل کرنا انتہائی دشوار رہے گا۔

سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی پر عوام کی بڑی تعداد روزگار اور جمہوریت کی بحالی کی امیدیں لگائے بیٹھی تھی، اور پارٹی آج بھی اسی نظریے کی پاسدار ہے۔

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت نے ایک جامع الیکٹورل ریفارمز کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آئندہ انتخابات کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ ماضی میں جیلوں سے دہشت گردوں کی رہائی کے جو غلط فیصلے کیے گئے تھے، آج پورا ملک ان کے منفی اثرات بھگت رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تمام جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے کی بھرپور کوشش کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کر اس مقدس سرزمین کو دہشت گردی کی لعنت سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن اور ترقی یافتہ ماحول میں سانس لے سکیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں