مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:58
تازہ
آئی سی سی کی اینٹی ڈوپنگ ٹیم کا دورہ، انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کیےمحمد رضوان اور امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازتجے پی ایف پنک پولو کپ 2026 کا ٹائٹل ایف جی ڈن پولو نے جیت لیاامام الحق کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کھیلنے کی اجازت مل گئیبالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی والے بنگلے پر کارروائیامریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کا سنڈریلا کا روپ دھارنا مداحوں کو بھا گیاپیپلز پارٹی کا لاہور میں بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروعوزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقابنادرا نے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کا آسان طریقہ کار واضح کر دیااسلام آباد: دامن کوہ کے قریب سرکاری گاڑی کی ٹکر سے خاتون سمیت دو افراد زخمیلاہور ایئرپورٹ پر سائپرس کا ٹیمپرڈ ویزا ناکام، مسافر آف لوڈدہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے، بلاول بھٹومحکمہ موسمیات کی پیشگوئی، ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گاریاضی کی دلچسپ پہیلی، کیا آپ گمشدہ ہندسہ تلاش کر سکتے ہیں؟ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، پاکستان کسان اتحاد کا مطالبہپاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینکایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکرٹری منتخباسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، سفارت کاری پر زورخیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اہم انکشافاتبیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالات
پاکستان

وزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب

آڈٹ رپورٹ نے مالی سال دو ہزار بائیس تیئیس کے دوران وزارتِ مواصلات اور پاکستان پوسٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کی نشان دہی کر دی۔

وزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب

وفاقی وزارتِ مواصلات میں مالی سال دو ہزار بائیس تیئیس کے دوران دو سو بائیس ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ آڈٹ حکام کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں سرکاری امور اور محکموں کے مالیاتی ریکارڈ میں سنگین نوعیت کی بے قاعدگیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وزارت کے تحت چلنے والے اداروں اور ذیلی شعبوں میں مختلف نوعیت کے مالی معاملات میں ضابطے کی خلاف ورزیاں پائی گئیں۔ ان مالی بے ضابطگیوں میں سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والے متعدد کیسز شامل ہیں جن کی اب باضابطہ بازپرس شروع کی جا رہی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فراڈ، چوری اور ڈکیتی کے چالیس مختلف کیسز سامنے آئے جن میں چار کروڑ اٹھاسی لاکھ روپے کی مالی گڑبڑ کی گئی۔ ان واقعات سے قومی وسائل کو نقصان پہنچا اور متعلقہ اداروں کی سکیورٹی اور انتظامی امور پر سوالات اٹھے۔

اس کے علاوہ ملازمتوں پر تقرریوں کے معاملات میں بھی بڑے پیمانے پر ضابطہ شکنی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھرتیوں سے متعلق چار مختلف کیسز میں دو ارب تہتر کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں جو کہ قواعد و ضوابط کے منافی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان پوسٹل سروسز میں خالی آسامیوں پر تقرریوں کی اجازت دی گئی تھی جس دوران نگران دورِ حکومت میں گریڈ ایک سے پندرہ تک چار ہزار دو سو باون بھرتیاں عمل میں لائی گئیں۔

ان بھرتیوں کے دوران قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تین سو چودھ افراد کو سیاسی بنیادوں پر مختلف عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں اس عمل کو ضابطے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے جس سے سرکاری اداروں میں میرٹ کی پامالی ہوئی۔

خریداری اور پبلک پروکیورمنٹ کے پانچ مختلف کیسز کی جانچ پڑتال کے دوران قومی خزانے کو تین ارب چھبیس کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا۔ ان خریداریوں میں شفافیت کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا اور مالی قواعد کی دھجیاں اڑائی گئیں۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک تجارتی بینک کے ساتھ غیر مجاز انتظامی معاملات کے نتیجے میں بیس ارب پچاسی کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بینکنگ اور انتظامی فیصلوں میں انحراف کے باعث سرکاری سرمائے کو خطرے میں ڈالا گیا۔

پاکستان پوسٹ کے معاملات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادارے نے مقررہ حد سے تجاوز کرتے ہوئے زائد اکاؤنٹس کھولے۔ ان غیر قانونی اکاؤنٹس کے ذریعے بیس ارب روپے کی بھاری رقوم کے لین دین اور ٹرانزیکشنز کی گئیں۔

ایک اور الگ کیس میں سرکاری خزانے کو انچاس کروڑ پچیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گیارہ مختلف مالی کیسز میں تین ارب چوہتر کروڑ روپے سے زائد کی رقوم کی وصولیاں کرنے کی نشان دہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پندرہ دیگر بڑے کیسز میں ایک سو چورانوے ارب چون کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں اور سنگین نوعیت کے انحرافات سامنے آئے ہیں۔ یہ تمام معاملات متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور مالیاتی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان ہیں۔

وزارتِ مواصلات کے امور میں سامنے آنے والی ان مالی بے قاعدگیوں کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے مزید تحقیقات اور ذمے داروں کے خلاف ضابطے کی کارروائی متوقع ہے۔ آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں قومی وسائل کے ضیاع کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آڈٹ اداروں کی جانب سے جاری کردہ اس نوعیت کی رپورٹس ملک میں مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانے اور سرکاری محکموں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ انکشافات کے بعد پارلیمنٹ کے متعلقہ کمیٹیوں میں بھی ان امور پر بازپرس کی توقع کی جا رہی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں