وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر چین کے وزیر خزانہ لان فوان سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ مالیاتی تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معاشی بحالی اور استحکام کے سفر میں چین کی جانب سے فراہم کردہ مسلسل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے دیرینہ اقتصادی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا تسلسل خطے میں ترقی کا ضامن ہے۔
چینی وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین کے مابین مالیاتی شعبے میں اشتراک کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عالمی سرمایہ کاری منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
ملاقات کا ایک اہم پہلو پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا کا جائزہ لینا تھا۔ اس عمل میں ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی معاونت اور سرمایہ کاروں کی جانب سے ظاہر کی گئی بھرپور دلچسپی کو سراہا گیا۔ اس موقع پر 2.5 فیصد کی مسابقتی شرح منافع پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان نے چینی سرمایہ کاری منڈی میں ایک مستقل اور خودمختار بانڈ جاری کرنے والے ملک کے طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس ضمن میں منظور شدہ 7.2 ارب چینی یوآن کے پروگرام کے تحت مستقبل میں مزید پانڈا بانڈز جاری کرنے کے منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان چار سال کے طویل وقفے کے بعد یورو بانڈ مارکیٹ میں بھی کامیابی سے واپس آ چکا ہے۔ مزید پانڈا بانڈز کے اجرا کے لیے ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مسلسل تکنیکی اور مالی معاونت پر بھی دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے تعاون پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایس سی او میں پاکستان کی سربراہی اور اسلام آباد میں ہونے والے وزرائے خزانہ کے اجلاس کی تیاریوں کے حوالے سے چینی ہم منصب کو آگاہ کیا۔
چینی وزیر خزانہ لان فوان نے ایس سی او کے آئندہ اجلاس میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے ایس سی او ترقیاتی بینک کے مجوزہ قیام کے حوالے سے بھی مشاورت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اس ادارے کے قیام سے خطے میں اقتصادی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
پاکستان نے ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ چینی فریق نے اس اہم منصوبے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پاکستان کی فعال سفارتکاری اور کردار کو سراہا، جس سے علاقائی اقتصادی انضمام میں مدد ملے گی۔
ملاقات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ خاص طور پر ایک اہم منصوبے کے مجوزہ راستے میں درکار تبدیلیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو دونوں وزراء نے سراہا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے چینی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت کے لیے علی بابا گروپ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خزانہ نے طے شدہ تعاون کے فریم ورک پر مکمل عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا۔ ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی معاونت کے تبادلے پر بھی زور دیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ پورے خطے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔





اپنی رائے دیں