امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں تعینات کی گئی نئی ترجمان کیٹی زکریا کی تعلیمی اسناد اور قانونی اہلیت کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کی تقرری کے بعد سے ان کی وکالت کی ڈگری اور پیشہ ورانہ پس منظر پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کیٹی زکریا کی بطور ترجمان تقرری کا اعلان کیا تھا جس میں انہیں ایک وکیل کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ خود کیٹی زکریا بھی ماضی میں اپنے آپ کو وکیل کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی قانونی حیثیت پر سوالات پیدا ہوئے۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک صحافی نے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے امریکا کی کس ریاست میں وکالت کا لازمی امتحان پاس کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے 'چین' کا نام لیا، جس پر میڈیا اور قانونی حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا گیا۔
بعد ازاں کیٹی زکریا نے وضاحت پیش کی کہ ان سے سوال سننے میں غلطی ہوئی تھی اور انہیں لگا کہ صحافی یہ پوچھ رہے ہیں کہ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کہاں گئی تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بین الاقوامی تجارتی قانون کے شعبے میں کام کر چکی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیٹی زکریا نے 2011 میں کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔ تاہم امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کیلیفورنیا میں وکالت کا امتحان دیا تھا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
امریکا میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا بذات خود وکالت کا لائسنس ملنے کے مترادف نہیں ہوتا۔ اس صورتحال کے بعد کیلیفورنیا کی ایک نگران تنظیم 'کمپین فار اکاؤنٹیبلٹی' نے صوبائی محکمہ وکلا میں ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تنظیم کا موقف ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہیے کہ آیا کیٹی زکریا نے لائسنس کے بغیر خود کو وکیل ظاہر کر کے کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ یہ شکایت ابھی صرف ایک ابتدائی قدم ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
کیٹی زکریا 2011 سے 2013 کے دوران چین کے شہر بیجنگ میں ایک قانونی ادارے 'ژونگ لون' کے ساتھ وابستہ رہی تھیں۔ اس دوران انہوں نے بین الاقوامی تجارتی قانون کے امور پر کام کیا، تاہم چین میں وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے چینی شہریت لازمی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چیونگ نے کیٹی زکریا کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کیٹی زکریا کو انتہائی اہل اور ذہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے مکمل موزوں ہیں۔
اس تنازع کے باوجود وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ کیٹی زکریا اپنی نئی ذمہ داریاں نبھانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ان کی اہلیت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے تاکہ میڈیا میں جاری قیاس آرائیوں کو ختم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر تعینات ہونے والے افراد کی ماضی کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی پر اکثر میڈیا کی جانب سے کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ اس طرح کے معاملات اکثر سیاسی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔
کیٹی زکریا کے حوالے سے یہ معاملہ فی الحال قانونی اور میڈیا کے حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ان کی جانب سے دی گئی وضاحتوں کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔
امریکی سیاست میں اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں جہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے افراد کی اسناد کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے کو بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں