اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک نے ایک متفقہ بیان جاری کرتے ہوئے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کونسل نے ان کارروائیوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی آرامکو کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کی ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین کا تحفظ کر سکے۔
سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
کونسل کے ارکان نے حوثی ملیشیا کو اسلحہ، مالی وسائل اور تکنیکی معاونت کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یمن میں امن کے قیام کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔
بیان میں یمن کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام کا اعادہ کیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے۔
سعودی عرب کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں خطے میں ایرانی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔ ریاض کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے اس متفقہ بیان کو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ایک اہم حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اقدام حوثی باغیوں پر دباؤ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا تاکہ وہ جنگ بندی کی طرف آئیں۔
واضح رہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے، جس پر سعودی عرب نے عالمی فورمز پر آواز اٹھائی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو متاثر کرنا ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ یمن میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، بلکہ اس کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کونسل نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات میں سنجیدگی سے حصہ لیں۔
سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں، جس پر عالمی اقتصادی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا یہ بیان عالمی معیشت کے تحفظ کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے برائے یمن بھی فریقین کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سلامتی کونسل کا حالیہ بیان ان سفارتی کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرے گا تاکہ یمن میں دیرپا امن کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
پاکستان نے بھی ماضی میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔





اپنی رائے دیں