مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:56
بریکنگ
یوکرین کا روسی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے انکارالبانیہ میں تعلیمی نظام کیخلاف طلبہ کا شدید احتجاج، درجنوں گرفتارپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائمخیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیخلاف احتجاجی تحریک کا محدود اثر، انٹیلی جنس رپورٹامریکا کا ایران پر ‘مدر آف آل بمز’ کے استعمال کا ممکنہ منصوبہسعودی اتحادی فوج نے مدینہ منورہ کے قریب کروز میزائل فضا میں تباہ کر دیاحکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیبرصغیر میں ہوا بازی کی تاریخ کے 94 برس، کراچی سے پہلی پرواز کی یادیںکراچی: عزیز آباد میں فائرنگ سے ایک شخص زخمیپاکستان اور چین کا مالیاتی تعاون بڑھانے اور مزید پانڈا بانڈز کے اجرا پر اتفاقامریکا کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر مسعود پزشکیاناقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمتامریکی صدر ٹرمپ کی نئی ترجمان کی تعلیمی اسناد اور قانونی اہلیت پر سوالات
دنیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

سلامتی کونسل نے سعودی عرب کی خودمختاری کی حمایت کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری تنصیبات پر حملوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک نے ایک متفقہ بیان جاری کرتے ہوئے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کونسل نے ان کارروائیوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی آرامکو کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ شہری آبادی اور اہم انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سلامتی کونسل نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے حقِ دفاع کی توثیق کی ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین کا تحفظ کر سکے۔

سلامتی کونسل نے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر جہاز رانی کی آزادی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

کونسل کے ارکان نے حوثی ملیشیا کو اسلحہ، مالی وسائل اور تکنیکی معاونت کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یمن میں امن کے قیام کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔

بیان میں یمن کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام کا اعادہ کیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے۔

سعودی عرب کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں خطے میں ایرانی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔ ریاض کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے اس متفقہ بیان کو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ایک اہم حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سلامتی کونسل کا یہ اقدام حوثی باغیوں پر دباؤ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا تاکہ وہ جنگ بندی کی طرف آئیں۔

واضح رہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے، جس پر سعودی عرب نے عالمی فورمز پر آواز اٹھائی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو متاثر کرنا ہے۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ یمن میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، بلکہ اس کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کونسل نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات میں سنجیدگی سے حصہ لیں۔

سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں، جس پر عالمی اقتصادی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا یہ بیان عالمی معیشت کے تحفظ کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے برائے یمن بھی فریقین کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سلامتی کونسل کا حالیہ بیان ان سفارتی کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرے گا تاکہ یمن میں دیرپا امن کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔

پاکستان نے بھی ماضی میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں