ملک کے مختلف شہروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ دکانداروں اور تاجروں کی جانب سے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کیے جانے کے باعث عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر کے بیشتر حصوں میں اشیائے خور و نوش کے دام آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بظاہر بے بس نظر آ رہی ہے اور سرکاری نرخنامے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے اور بیشتر علاقوں میں یہ گیس چھ سو روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت بھی سات ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت دو سو اسی روپے مقرر ہے لیکن دکاندار ساڑھے پانچ سو روپے فی کلو تک وصول کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اس منافع خوری کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے روٹی کا حصول عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی اور لاہور میں گندم کا آٹا ایک سو نوے روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔
کوئٹہ میں بیس کلو آٹے کا تھیلا تین ہزار تین سو تیس روپے کا ہو چکا ہے جبکہ بلوچستان بھر میں گندم کا بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ خضدار، چاغی، واشک اور کیچ سمیت دیگر اضلاع میں پچاس کلو آٹے کی بوری آٹھ ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں صوبائی کابینہ کی منظوری کے باوجود گندم کی خریداری تاحال شروع نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پانچ لاکھ پچہتر ہزار بوریاں خریدنی تھیں لیکن تاحال ایک لاکھ بوری بھی نہیں خریدی گئی۔
کوئٹہ میں سبزیوں، گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں بھی بیس فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے شہریوں کا ماہانہ بجٹ مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔
کراچی میں مرغی کا گوشت ساڑھے سات سو روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے جبکہ دالیں اور دیگر ضروری اشیاء بھی عوام کی استطاعت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
شہر قائد سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں دودھ اور گوشت کے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرانے والا کوئی پرسان حال نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں ان کی آمدنی کے ذرائع محدود اور اخراجات لامحدود ہو چکے ہیں۔
عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں من مانے اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو عام آدمی کا جینا محال ہو جائے گا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس طرح کے غیر قانونی اور بے لگام اضافے کو روکنے کے لیے سپلائی چین کو بہتر بنانا اور مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر گندم اور آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس تناظر میں عوام کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی کا سامنا ہے اور وہ حکومت سے فوری مداخلت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔





اپنی رائے دیں