جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے جاری کردہ احتجاجی لائحہ عمل کے تحت اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 23 اکتوبر سے ملک گیر احتجاجی تحریک کے نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے دی گئی کال کے مطابق 23 اکتوبر بروز جمعہ کو ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے اصولی مؤقف پر سختی سے قائم ہے اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال نے تجویز دی تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی کی ملاقات سے قبل دونوں جماعتوں کی مذاکراتی کمیٹیاں آپس میں مل کر تجاویز کو حتمی شکل دیں۔ تاہم تاحال حکومتی کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے نام پر بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے حقیقی ریلیف مل سکے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کا ماننا ہے کہ حکومتی سطح پر سنجیدگی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں مہنگائی اور عوام پر ڈالے گئے معاشی بوجھ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور حکومتی پالیسیوں میں بہتری نہیں آتی، تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف ایک طویل احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم کے پہلے دو مراحل میں بھی ملک بھر میں دھرنے اور مظاہرے کیے گئے تھے جنہیں عوامی سطح پر کافی پذیرائی ملی تھی۔
جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات منوانے پر یقین رکھتی ہے اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کا حق استعمال کر رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 اکتوبر کے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جماعت اسلامی کا یہ اقدام حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت کی جانب سے تاحال اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم مذاکراتی عمل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
جماعت اسلامی کے مطابق ان کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور وہ کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ان کے مطالبات کی فہرست میں سرفہرست ہے۔
پارٹی کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاج کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ کارکنوں کو پرامن رہنے اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت ملک کے موجودہ معاشی حالات پر گہری تشویش رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، محض وعدوں سے کام نہیں چلے گا۔
آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کا یہ تیسرا مرحلہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کے اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں جبکہ عوام کی نظریں بھی اس احتجاجی تحریک کے نتائج پر مرکوز ہیں۔





اپنی رائے دیں