وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم یہ بات چیت غیر مشروط ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی شرائط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی عمل میں بات چیت کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے رکھی جانے والی شرائط حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ یا گورنر راج کے خاتمے جیسی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت ان مطالبات کو تسلیم کیے بغیر ہی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
ملک میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 وفاق کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے امور میں مداخلت کر سکے تاکہ نظم و نسق برقرار رہے۔
رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بارہا کہا گیا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر حکومت کو سخت اقدامات کرنا پڑے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے اور اس صورتحال میں صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی نے وفاق کو مشکل فیصلوں پر مجبور کیا۔ حکومت اب صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ انہیں اپنی ضمانت کروانی چاہیے اور عدالتوں میں پیش ہو کر قانونی تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔
سہیل آفریدی کی گرفتاری اور ان کی کابینہ کے ارکان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی نئی جیل میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر متعلقہ افراد کو ایک ساتھ رکھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق قیدیوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے تاکہ سیکیورٹی برقرار رہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح خیبر پختونخوا میں امن کا قیام ہے تاکہ وہاں کے عوام کو دہشت گردی کے سائے سے نکالا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے گی۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر فی الحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ اکتوبر کے مہینے میں اس موضوع پر کسی قسم کی بحث یا قانون سازی کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملک کی سلامتی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔




اپنی رائے دیں