مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:37
بریکنگ
ٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہسردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے ایل این جی کے 18 کارگو خریدنے کا ہدفپنجاب میں بچوں سے بھیک منگوانے پر 3 سال قید اور جرمانے کا آرڈیننس نافذسعودی عرب: مکہ اور مدینہ کے اسکولوں میں موسم سرما کے اوقات کا اعلانلمز میں گوگل کے اشتراک سے ایپ ڈیولپمنٹ بوٹ کیمپ کا انعقادمدینہ منورہ میں قدرتی چراگاہوں کی بحالی کیلئے نئی مہم شروعدیپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ نے دوسری بیٹی کے نام کا اعلان کر دیا
پاکستان بریکنگ نیوز

صادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرک

صادق آباد کے علاقے عوامی کالونی میں ایک سنگدل ماں نے اپنے چار سالہ بیٹے سبحان کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر لہولہان کر دیا، ملزمہ کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی۔

صادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرک

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے ہی چار سالہ معصوم بیٹے سبحان پر بہیمانہ تشدد کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ صادق آباد کے علاقے عوامی کالونی میں پیش آیا۔ ملزمہ نے سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے نہ صرف اپنے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی۔ یہ ویڈیو بعد ازاں اپنی والدہ کو واٹس ایپ کے ذریعے ارسال کی گئی۔

ویڈیو کے ساتھ ملزمہ نے اپنی والدہ کو دھمکی آمیز پیغام بھی بھیجا جس میں کہا گیا کہ اگر وہ اپنے نواسے کو زندہ دیکھنا چاہتی ہیں تو فوری طور پر آ کر اسے لے جائیں، بصورت دیگر وہ بچے کو جان سے مار دے گی۔ اس دھمکی نے خاندان اور اہل علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پولیس حکام حرکت میں آ گئے۔ صادق آباد پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمہ کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ملزمہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور اسے جلد حراست میں لے کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ بچے کی بازیابی اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے تاکہ اسے مزید کسی نقصان سے بچایا جا سکے۔

اس قسم کے واقعات معاشرتی اقدار کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھریلو تنازعات اور نفسیاتی دباؤ کے باعث اس طرح کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو ایسے واقعات کی بروقت اطلاع دینی چاہیے تاکہ معصوم جانوں کو بچایا جا سکے۔

واقعے کے بعد سے عوامی کالونی کے مکینوں میں شدید صدمہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمہ کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اور ماں اپنے بچے کے ساتھ ایسا سفاکانہ سلوک کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز کو پھیلاتے وقت احتیاط برتیں اور کسی بھی مشکوک یا مجرمانہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے واقعات کے تدارک کے لیے پرعزم ہیں۔

بچے کی موجودہ حالت کے بارے میں ابھی تک مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ بچے کی طبی امداد اور بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ پولیس اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گھریلو تشدد کے معاملات میں فوری مداخلت کتنی ضروری ہے۔ حکومت اور فلاحی اداروں کو ایسے خاندانوں کی کونسلنگ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خاندانی نظام کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے اور بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

صادق آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے کہ اس نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔ پولیس تفتیش کے دوران تمام شواہد کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ عدالت میں مضبوط کیس پیش کیا جا سکے۔

معاشرے کے باشعور طبقے نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین بھی ملزمہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ پولیس جلد از جلد ملزمہ کو گرفتار کر کے بچے کو انصاف فراہم کرے گی۔ اس طرح کے واقعات کا سدباب کرنے کے لیے معاشرتی سطح پر آگاہی مہم چلانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں