کراچی میں پیش آنے والے نوجوان تاجر میر رضا کے پراسرار انتقال کے معاملے پر صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں صوبائی وزراء پر مشتمل ایک خصوصی کابینہ کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کر کے اپنی تفصیلاً تجاویز پیش کیں جن کی فوری طور پر منظوری دے دی گئی۔
مذکورہ کیس کے پس منظر کے مطابق مقتول میر رضا رواں برس اٹھائیس جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنی رہائش گاہ سے باہر گئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ واقعے کے ابتدائی مراحل میں مقامی پولیس کی جانب سے اس المناک واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن مقتول کے خاندان نے اس مؤقف کو شروع ہی سے مسترد کر کے قتل کا شدید شبہ ظاہر کیا۔
لواحقین کی مسلسل استدعا اور دباؤ کے بعد عدالت کے حکم پر قبر کشائی کی گئی اور ایک نئے طبی بورڈ کے تحت معائنہ کیا گیا جس کی رپورٹ نے موت کے اسباب پر سے پردہ ہٹایا۔ سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے اپنی تفصیلی انکوائری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ میر رضا کی موت ہرگز خودکشی نہیں بلکہ ایک سفاکانہ قتل تھا جسے چھپانے کے لیے مختلف حیلے بہانے تراشے گئے۔
کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد صوبائی انتظامیہ حرکت میں آئی اور صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے وزراء کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں سینئر صوبائی وزراء اور قانون دان شامل تھے جنہوں نے وزیراعلیٰ کو تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے جامع سفارشات پیش کیں جن پر اب عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔
طے شدہ فیصلے کے مطابق میر رضا کیس کی نئی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی جس کی قیادت تجربہ کار افسر عرفان بلوچ کے سپرد کی جائے گی۔ اس ٹیم میں پاکستان کے حساس اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جو قتل کے اصل محرکات، شواہد کی گمشدگی اور دیگر تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ انداز میں احاطہ کریں گے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں سائنسی اور طبی شواہد کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے جس سے یہ بات عیاں ہوئی کہ مقتول کے جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات موجود تھے اور جائے وقوعہ پر خون کے مطلوبہ قطرے یا دھبے موجود نہیں تھے۔ ماہرین کے مطابق دل پھٹنے اور گولی لگنے کے بعد انتہائی قلیل وقت میں وافر مقدار میں خون بہہ جاتا ہے، لہٰذا لاش کا کسی اور مقام پر قتل کے بعد وہاں پھینکا جانا اظہر من الشمس ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش پر کڑی تنقید کرتے ہوئے رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ تفتیشی افسران نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غفلت برتی اور شواہد کو مناسب طریقے سے محفوظ بنانے میں ناکام رہے۔ نامزد پولیس افسران اور متعلقہ ایس ایچ اوز کے پُرخلوص نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے میں کئی ابہام پیدا ہوئے اور عوام میں غلط تاثرات نے جنم لیا۔
رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پولیس نے محض چند غیر تصدیق شدہ پیغامات اور منتخب سی سی ٹی وی فوٹیجز پر انحصار کیا جبکہ علاقے میں درجنوں کیمرے موجود ہونے کے باوجود تمام راستوں کی فوٹیج حاصل نہیں کی گئی۔ جائے وقوعہ پر پولیس اہلکاروں کی غیر ضروری نقل و حرکت اور مبینہ طور پر کی گئی آگ جلانے کی کارروائی نے تمام اہم فنگر پرنٹس اور ڈی این اے شواہد کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
طبی شعبے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکوائری رپورٹ میں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کے طرز عمل کو غیر پیشہ ورانہ اور بچگانہ قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اس ڈاکٹر کو کم از کم دو سال کے لیے تمام میڈیکل لیگل اور عملی ذمہ داریوں سے فوری طور پر روک دیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کی غفلت کا اعادہ نہ ہو۔
محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر شہریار میمن کے کردار پر بھی رپورٹ میں شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر بغیر کسی معقول وجہ کے خصوصی میڈیکل بورڈ میں تبدیلیاں کیں۔ کمیشن کے مطابق اگرچہ موصوف نے اسے نیک نیتی پر مبنی قرار دیا لیکن اس کی کوئی ظاہری توجیہہ نہیں ملتی اور یہ اقدام کسی بیرونی اثر و رسوخ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
مقتول سے منسوب مالی معاملات، کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشنز اور واٹس ایپ پیغامات کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ مبینہ طور پر تین کروڑ روپے طلب کرنے اور بائنانس اکاؤنٹس کے ذریعے بڑی رقوم کی منتقلی کے دعوے سامنے آئے جن کی آزادانہ مالی اور فرانزک جانچ پڑتال کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بلیک میلنگ کے پہلو کو واضح کیا جا سکے۔
صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے پیش کردہ ان تمام سفارشات پر من و عن عملدرآمد کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں تمام ذمہ داران کو لایا جائے گا اور انصاف کے تقاضے ہر صورت میں پورے کیے جائیں گے تاکہ مظلوم خاندان کو اس کا حق مل سکے۔
حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی دوسری تحقیقاتی ٹیم ان تمام افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران دانستہ یا نادانستہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اس پوری مشق کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور تحقیقاتی نظام میں موجود تمام تر خامیوں کا سدباب کرنا ہے۔




اپنی رائے دیں