ملتان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے تناظر میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ یتیم خانے کا ہنگامی دورہ کیا اور وہاں مقیم بچوں کی سلامتی کا جائزہ لیا۔ اس کارروائی کے دوران بیورو کی ٹیم نے یتیم خانے سے 16 کم عمر بچوں کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا جنہیں بعد ازاں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے چائلڈ پروٹیکشن سینٹر ملتان منتقل کر دیا گیا۔
یہ تمام اقدامات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں اٹھائے گئے جنہوں نے بچوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کو ہر دور میں اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ چیئرپرسن کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہر بچہ محفوظ ماحول میں پرورش پائے۔
یاد رہے کہ اس کارروائی کا پس منظر ملتان کا وہ دلخراش واقعہ ہے جس میں وسیم عباس نامی پندرہ سالہ بچے کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقات کے مطابق کم عمر وسیم عباس ایک یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا جہاں سے اسے مبینہ طور پر فنی تربیت یا ہنر سکھانے کے بہانے ایک ٹھیکدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔
متعلقہ ملزم نے بچے کو چھٹی دینے اور اس کی حفاظت کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اپنی گاڑی تلے کچل کر موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔ اس المناک واقعے کے بعد جب حقیقتیں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ بچے کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے نے کس قدر غفلت کا مظاہرہ کیا تھا اور اسے غیر محفوظ ہاتھوں میں سونپ دیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس کارروائی کے دوران مبینہ طور پر مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے تاہم اس واقعے نے معاشرتی حلقوں اور بالخصوص بچوں کے حقوق کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کیس کے وائرل ہونے اور بچوں کے حقوق کی پامالی پر آوازیں اٹھنے کے بعد چئیرپرسن سارہ احمد نے فوری نوٹس لیا تھا۔
چیئرپرسن سارہ احمد نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ بچوں کو ہنر سکھانے یا فنی تربیت دلانے کے نام پر غیر مجاز افراد یا نجی اداروں کے حوالے کرنا ان کی جان کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ بچوں کو صرف اور صرف سرکاری سطح پر مستند اور مجاز اداروں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔
بیورو کی سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کے تحفظ کو عملی طور پر یقینی بنایا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے بہیمانہ واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وسیم عباس کی ہلاکت کے پورے واقعے کی انتہائی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کی جائیں۔
تحقیقات کے دوران اگر کوئی یتیم خانہ یا متعلقہ فلاحی ادارہ بچوں کی سلامتی میں غفلت کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں بیورو کی جانب سے صوبے بھر کے فلاحی اداروں اور یتیم خانوں کے ریکارڈ اور وہاں مقیم بچوں کی فلاح و بہبود کا جائزہ لینے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت کے نام پر قائم اداروں کو سخت ضابطہ اخلاق اور مانیٹرنگ کے تحت لانے کی شدید ضرورت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کمزور نگرانی کے باعث ایسے ادارے بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کے نتائج انتہائی بھیانک نکلتے ہیں۔
چائلڈ پروٹیکشن بیورو ملتان کی جانب سے بچوں کو تحویل میں لینے کا یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ مزید کسی بھی طفلِ معصوم کو غیر محفوظ حالات کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے جو معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ والدین اور سرپرستوں کے ساتھ ساتھ فلاحی تنظیموں کو بھی بچوں کی سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور ادراک کرنا ہوگا۔
حکومت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کی وقتاً فوقتاً جانچ پڑتال کریں تاکہ وہاں مقیم بچوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے وسیم عباس کا یہ کیس معاشرے کے بے حس ضمیر اور نظام کی خامیوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔
شہری حلقوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ملتان کے اس یتیم خانے سے تحویل میں لیے گئے بچوں کو بہترین نگہداشت اور تعلیم و تربیت فراہم کی جائے گی۔ عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے عناصر کو کڑی سزا دی جائے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتِ پنجاب کے ماتحت کام کرنے والا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو صوبے بھر میں ایسے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیورو کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے استحصال اور غفلت کے مرتکب تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا عمل جاری رکھا جائے گا۔





اپنی رائے دیں