وزارتِ خارجہ نے عوام کو سہولت فراہم کرنے اور دفتری امور میں شفافیت لانے کیلئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں 'ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم' کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید نظام کا مقصد شہریوں کو طویل قطاروں اور دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی زحمت سے نجات دلانا ہے۔
ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ سہولت 12 اکتوبر سے فعال کر دی گئی ہے۔ اس ڈیجیٹل نظام کا دائرہ کار صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے ملک کے بڑے شہروں میں موجود وزارت کے تمام علاقائی دفاتر میں بھی متعارف کروا دیا گیا ہے۔
نئے نظام کے تحت لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم رابطہ دفاتر میں بھی اب ڈیجیٹل تصدیق کی سہولت دستیاب ہوگی۔ اس اقدام سے ان شہروں اور گردونواح کے رہائشیوں کو اپنی دستاویزات کی تصدیق کیلئے وفاقی دارالحکومت کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس جدید نظام کی سب سے بڑی خوبی شہریوں کو گھر بیٹھے دستاویزات آن لائن اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ شہری اب کسی بھی وقت اپنی اہم دستاویزات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کر کے تصدیق کے عمل کا آغاز کر سکتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے اس عمل کو مزید آسان بنانے کیلئے فیس کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی آن لائن کر دیا ہے۔ شہری اب بینکوں میں قطاروں میں لگنے کے بجائے گھر بیٹھے ڈیجیٹل طریقے سے اٹیسٹیشن فیس ادا کرنے کے اہل ہوں گے۔
تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد، ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سرٹیفکیٹ براہِ راست شہری کو ای میل کے ذریعے بھیج دیا جائے گا۔ یہ سرٹیفکیٹ قانونی طور پر قابلِ قبول ہوگا اور اس کے حصول کیلئے کسی بھی دفتر میں جسمانی موجودگی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے شہریوں کے قیمتی وقت اور محنت کی بڑی بچت ہوگی۔ ماضی میں دستاویزات کی تصدیق کا عمل کافی طویل اور صبر آزما ہوتا تھا، جس میں شہریوں کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا، اب یہ عمل چند کلکس تک محدود ہو گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو ای گورننس کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور عوام کو درپیش مشکلات میں کمی ہوگی۔
ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم کا مقصد نہ صرف سہولت فراہم کرنا ہے بلکہ دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا بھی ہے۔ آن لائن نظام سے انسانی مداخلت کم ہوگی اور غلطیوں کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔
وزارتِ خارجہ کے حکام کے مطابق، اس سسٹم کو انتہائی محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ شہریوں کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رہے۔ سسٹم کی نگرانی کیلئے ایک مربوط ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو آن لائن موصول ہونے والی درخواستوں کی بروقت جانچ پڑتال کرے گی۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دستاویزات اپ لوڈ کرتے وقت تمام ضروری معلومات درست درج کریں تاکہ تصدیق کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ کسی بھی تکنیکی مسئلے کی صورت میں وزارت کے متعلقہ دفاتر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اس جدید سہولت کے آغاز پر شہریوں کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور ملازمت یا تعلیم کیلئے دستاویزات کی تصدیق کروانے والے افراد کیلئے یہ ایک انتہائی مفید قدم ثابت ہوگا۔
مستقبل میں اس نظام کو مزید وسعت دینے اور اس میں دیگر سہولیات شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کا عزم ہے کہ وہ اپنی خدمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے تاکہ عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔





اپنی رائے دیں