عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کی قیمت ایک سو چودہ ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی۔ ماہرین معاشیات کے مطابق حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی تھی لیکن اب صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پیر کے روز تجارتی سرگرمیوں کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کی غرض سے فروخت کا سلسلہ شروع کیا گیا جس سے منڈی میں تیل کے نرخوں پر فوری دباؤ پڑا۔
امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سو ڈالر فی بیرل کے آس پاس ٹریڈ ہو رہا ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سیاسی و معاشی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے قبل تیل ضرورت سے زائد خریدا جا چکا تھا۔ اس اضافی خریداری کے بعد سرمایہ کاروں نے احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے اپنی پوزیشنز کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے ملے ہیں جن سے مارکیٹ کے اندر پائی جانے والی بے یقینی میں قدرے کمی ہوئی۔ اسی تناظر میں سرمایہ کاروں نے قیمتوں کے مزید بڑھنے کے خدشات کو نظر انداز کیا۔
اس کے باوجود مشرق وسطیٰ کی صورتحال مکمل طور پر پرسکون نہیں کہی جا سکتی۔ سعودی عرب میں تیل کی اہم تنصیبات پر مسلسل حملوں اور سکیورٹی کے خدشات اب بھی منڈی کے شرکاء کو محتاط رکھنے کا اہم سبب بنے ہوئے ہیں۔
رواں سال کے دوران رسد میں ممکنہ کمی کے خدشات کی وجہ سے برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں قریباً نوے فیصد تک کا اضافہ ہو چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کے دام حالیہ دنوں میں اپنی چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے تھے۔
جمعہ کے روز بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں کہ بین الاقوامی سطح پر ممکنہ کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
سعودی عرب دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا ایک انتہائی اہم ملک ہے اور وہاں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات ہمیشہ سے عالمی منڈی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ علاقائی تنازعات کا رخ کس طرف جاتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق طویل مدتی بنیادوں پر تیل کی قیمتوں کا انحصار خطے کی سیاسی صورتحال اور طلب و رسد کے توازن پر ہوگا۔ آنے والے دنوں میں امریکی اور ایرانی تعلقات کے علاوہ دیگر بین الاقوامی عوامل بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
تجارت سے وابستہ اداروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن مارکیٹ میں غیر یقینی کا عنصر اب بھی برقرار ہے۔ کسی بھی نئے واقعے یا کشیدگی کے بڑھنے کی صورت میں قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد اس ہفتے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والی یہ ہلچل دنیا بھر کے مالیاتی اور صنعتی اداروں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی صورتحال میں تبدیلی آنے تک مارکیٹ میں اسی قسم کا اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ تمام متعلقہ ادارے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اپنی رائے دیں