سعودی عرب کے سول ڈیفنس حکام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل حملوں کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کارروائی سعودی فضائی دفاعی نظام کی مستعدی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جس سے کسی بھی قسم کے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ میزائلوں کو تباہ کرنے کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ میزائلوں کے کچھ حصے مکہ مکرمہ کی وادی المغمس میں گرے، جبکہ جدہ گورنریٹ کے محلہ النزہہ میں بھی ملبہ پایا گیا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق، طائف گورنریٹ کی وادی جلیل اور رابغ گورنریٹ کے مرکز مستورہ میں بھی میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں ملبے کے ٹکڑے گرے۔ متعلقہ حکام نے ان علاقوں میں فوری طور پر حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے منظور شدہ طریقہ کار پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے حوثی ملیشیا کے ان حملوں کی شدید مذمت کی جاتی رہی ہے۔ مملکت کے دفاعی نظام نے ماضی میں بھی اس طرح کی جارحیت کو ناکام بنایا ہے تاکہ مقدس مقامات اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
سعودی سول ڈیفنس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک ملبے یا شے کو ہاتھ نہ لگائیں۔ متعلقہ ٹیمیں ان علاقوں میں صفائی اور تحقیقاتی عمل میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو دور کیا جا سکے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سعودی عرب نے بارہا عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
سعودی فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے جس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ مملکت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کے جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔
مذکورہ علاقوں میں معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ متحرک ہے۔ سعودی سول ڈیفنس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے اس طرح کے میزائل حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
سعودی وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ ادارے اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔
مستقبل میں اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے سعودی عرب اپنے دفاعی نظام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مملکت کی ترجیح اپنے مقدس مقامات اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں