آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
اوگرا کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے دو کارگوز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے لاگو تصور کیا جائے گا جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 15.27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد نئی قیمت 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 14.01 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد نئی قیمت 17.32 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ توانائی کی عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
سوئی ناردرن سسٹم پر بھی ایل این جی کی قیمت میں 2.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین شفاف طریقے سے اور درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر میں سوئی ناردرن سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت 15.19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر تھی۔ جبکہ سوئی سدرن سسٹم کے لیے یہ قیمت 14.22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور صنعتی پیداوار پر پڑتا ہے۔ حکومت قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹیفکیشن گیس کی سپلائی چین اور تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ہدایات پر مشتمل ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو نئی قیمتوں کے مطابق بلنگ کا عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ایل این جی کی درآمد سے پورا کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا مقامی سطح پر گیس کے نرخوں میں اضافے کا بنیادی سبب بنتا ہے۔
حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس ضمن میں اوگرا وقتاً فوقتاً قیمتوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔
ایل این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں تبدیلی متوقع ہے۔ متعلقہ حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
اس نوٹیفکیشن کے بعد اب گیس کمپنیاں اکتوبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والے بلوں میں نئی قیمتوں کا اطلاق کریں گی۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس کے استعمال میں احتیاط سے کام لیں۔





اپنی رائے دیں